Headlines

    آب زم زم کے 60 نام، کنویں میں پانی کہاں سے آتا ہے ؟ وہ بات جو بہت کم لوگ جانتے ہیں

    مکہ مکرمہ میں زمزم کے کنوئیں سے پانی نکلنے کا سلسلہ ہزاروں برس سے جاری ہے۔ دینی متون کے مطابق یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا جب کہ اس کے برعکس دنیا کا ہر پانی قیامت سے قبل معدوم ہو جائے گا۔زمزم کا پانی کہاں سے آتا ہے اور اس کا ذائقہ امتیازی نوعیت کا کیوں ہے ؟

     

    ان سوالات کو العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ڈاکٹر انجینئر یحیی کوشک کے سامنے رکھا جنہوں نے امریکا کی واشنگٹن یونیورسٹی سے انوئرمنٹل انجینئرنگ میںاسپیشلائزیشن کر رکھی ہے۔ وہ پانی کے امور کے پہلے سعودی ماہر اور زمزم کے کنوئیں کی تجدید کے منصوبے کے نگراں بھی ہیں۔ وہ زمزم کے کنوئیں کے بارے میں مستند علمی اور تاریخی معلومات کا ذخیرہ رکھتے ہیں۔

    Advertisement

     

    گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر کوشک نے واضح کیا کہ زمزم کے کنوئیں کے ظہور کا واقعہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنی زوجہ ہاجر اور شیرخوار بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو اس ویران بیابان میں چھوڑا تو بچے کو پیاس لگی۔ اس موقع پر ماں نے صفا ور مروہ کے درمیان بے قراری میں دوڑ لگائی اور اپنے رب سے مدد مانگی۔

     

    Advertisement

    اللہ رب العزت نے جبریل علیہ السلام کو بھیجا جنہوں نے زمین اور پہاڑ کو اپنے پر سے ضرب لگائی۔ اس ضرب کو “ہزم جبریل” کا نام دیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مکہ کے پڑوس میں واقع پہاڑوں کے دامنوں میں شگاف پڑ گئے۔ ان میں پانی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود تھا۔ڈاکٹر کوشک کے مطابق پہاڑوں کے اندر جمع شدہ پانی کنوئیں کے مقام تک پہنچ گیا جہاں شیرخوار حضرت اسماعیل کے قدموں کے نیچے سے پانی پھوٹ پڑا۔

     

    یہ مقام خانہ کعبہ سے 21 میٹر کے فاصلے پر ہے التبہ اس وقت تک بیت اللہ تعمیر نہیں ہوا تھا۔ کوشک نے بتایا کہ یہ پانی چٹانوں کے تین شگافوں کے ذریعے کنوئیں میں جمع ہوتا ہے جو خانہ کعبہ کے نیچے اور صفا اور مروہ کی سمت پھیلی ہوئی ہیں۔

    Advertisement

     

     

    کوشک کا کہنا ہے کہ زمزم کا پانی جنت سے نہیں آتا جیسا کہ لوگوں میں مشہور ہے۔زمزم کے پانی کے منفرد ذائقے کا راز بتاتے ہوئے کوشک کا کہنا تھا کہ اس کا تعلق پانی کے مخصوص سمتوں سے معینہ چٹانوں کے ذریعے گزرنے سے ہے۔ کوئی بھی پانی جو ان مقامات سے پھوٹے گا اور کنوئیں کی گہرائی میں گرے گا وہ آب زمزم جیسے ذائقے اور خصوصیات کا حامل ہو گا۔ آب زمزم کے 60 سے زیادہ نام ہیں۔

    Advertisement

     

     

    ان میں مشہور ترین نام زمزم ، سقیا الحاج ، شراب الابرار ، طیب ، بر ، برک اور عافیہ ہیں۔ مکہ مکرمہ کے لوگ قدیم زمانے سے ہی اپنے مہمانوں کے اکرام کے لیے ان کا استقبال آب زمزم سے کیا کرتے تھے۔اس پانی کو مٹی کی صراحیوں میں مصطگی کے گوند کی دھونی دے کر مہمانوں کو پیش کیا جاتا تھا۔ اس مہک کے سبب یہ پینے والوں کو زیادہ محبوب ہوتا تھا۔

    Advertisement

     

     

    مکہ مکرمہ میں یہ رواج آج بھی باقی ہے جب کہ ماہ رمضان میں افطار کے دسترخوانوں پر کھجور کے ساتھ صرف آب زمزم ہی پیش کیا جاتا ہے۔مکہ کے رہنے والوں کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے مردوں کو تدفین سے قبل آب زمزم سے غسل دیا جائے۔ علاوہ ازیں ہر حاجی اور معتمر اس کو اپنے وطن میں موجود عزیز و اقارب کے واسطے بطور ہدیہ لے کر لوٹتے ہیں۔

    Advertisement

     

     

    Advertisement