اگرآپ کو دماغ عزیز ہے تو چند عادتیں فوراََچھوڑدیں، ماہرین نے خبردار کر دیا

لاہور (اعتماد نیوز ڈیسک) ہمارا دماغ ہمارے جسم کا وہ حصہ ہوتا ہے جب سب سے زیادہ محنت کرتا ہے- یہاں تک کہ انسان کے سونے پر بھی دماغ سوتا نہیں ہے اور نہ وقفہ لیتا ہے- اس لیے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم خود اس کی دیکھ بھال کریں لیکن ہماری اپنی ہی چند عام عادات ہمارے دماغ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں- یہاں ہم ایسی ہی چند عادات کا ذکر کر رہے ہیں۔

Advertisement

جو ہمارے دماغ کو نقصان پہنچاتی ہیں اور اگر آپ بھی ان عادات میں سے کسی عادت کا شکار ہیں تو فورً ترک کیجیے- ناشتہ چھوڑ ناشتہ چھوڑ دینا: ہم سب جانتے ہیں کہ صبح کا ناشتہ ہمارے لیے کتنا اہم ہوتا ہے لیکن اکثر لوگ اس جانب توجہ نہیں دیتے اور ناشتہ کیے بغیر ہی اپنے روزمرہ کے کام سرانجام دینے لگتے ہیں- سونے کی وجہ سے کئی گھنٹوں تک آپ کھائے پیے بغیر رہتے ہیں اور اب آپ کے جسم کو غذائی اجزاﺀ کی ضرورت ہوتی ہے- صبح کچھ نہ کھانے کی وجہ سے آپ کے دماغ کے خلیے کمزور ہونے لگتے ہیں۔

Advertisement

غنودگی اور چکر آنے کی شکایت بھی عام طور پر ناشتہ نہ کرنے کی عادت کی وجہ سے ہی پیدا ہوتی ہے- اضافی کھانا: اضافی کھانا ویسے بھی بری عادت ہے لیکن ایک اور اہم بات جس کی جانب ہم اکثر توجہ نہیں دیتے وہ یہ کہ اضافی کھانا کھانے سے ہمارے جسمانی وزن میں بھی اضافہ ہونے لگتا ہے-

Advertisement

یہ بری عادت ہماری شریانوں کو بھی سخت کرنے لگتی ہے جس کی وجہ سے دماغ کو شدید نقصان پہنچنے لگتا ہے- اس لیے بہتر ہے کہ اعتدال کے ساتھ کھائیے اور صحت مند زندگی گزاریے چینی کا زیادہ استعمال: زیادہ چینی کا استعمال آپ کے جسم کو پروٹین اور دیگر ضروری غذائی اجزاﺀ کے جذب ہونے کے حوالے سے سخت بنا دیتا ہے- اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے جسم کو مناسب طریقے سے کام کرنے کے لیے جتنی غذا کی ضرورت تھی اسے اتنی ہی مل رہی ہے نہ کہ اضافی- جن لوگوں کا خیال ہے کہ وہ زیادہ کھاتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ چینی کا استعمال زیادہ کرتے ہیں کیونکہ یہ لوگوں کو بھوکا بنا دیتی ہے- اور اضافی کھانے سے دماغ کو شدید نقصان پہنچتا ہے- تمباکو نوشی: ہم سب اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ تمباکو نوشی ہمیں صرف نقصان پہنچاتی ہے لیکن پھر بھی اس کی عادت میں بری طرح گرفتار ہوتے ہیں۔

Advertisement

تمباکو نوشی ہمارے دماغی خلیوں کی قاتل ہے اور اس کی وجہ سے ہماری یادداشت مختصر اور کمزور ہونے لگتی ہے- اس کے علاوہ تمباکو نوشی الزائمر کی بیماری لاحق ہونے کا سبب بھی بنتی ہے- فضائی آلودگی: یقیناً یہ کوئی عادت نہیں ہے لیکن یہ بھی دماغی صحت کو تباہ کرنے والے اسباب میں سے ایک ہے- ہمارے دماغ کو مناسب طریقے سے کام کرنے کے لیے آکسیجن کی بھاری مقدار کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بدقسمتی اسے فضائی آلودگی ماحول میں موجود آکسیجن کی مقدار کو شدید نقصان پہنچاتی ہے-

Advertisement

تبادلہ خیال کی کمی: مختلف مسائل اور امور پر تبادلہ خیال سے ہمارے دماغ کی افزائش ہوتی ہے اور ہمارے دماغ میں نئے آئیڈیاز بھی جنم لیتے ہیں- اس کے علاوہ تبادلہ خیال سے بےپناہ معلومات بھی حاصل ہوتی ہے- لیکن لوگوں سے بات نہ کی جائے یا کم کی جائے تو دماغ کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

Advertisement

اور یہ محدود ہونے کے علاوہ کسی بھی مسئلے پر زیادہ نہیں سوچ سکتا- بات نہ کرنے کی عادت کی وجہ سے دماغ سکڑنے بھی لگتا ہے- سر کو ڈھک کر سونا: ہمارے دماغ کو صرف اس وقت ہی آکسیجن کی ضرورت نہیں ہوتی جب ہم جاگ رہے ہوتے ہیں بلکہ اس وقت بھی درکار ہوتی ہے جب ہمارا جسم سو رہا ہوتا ہے- اکثر لوگوں کو سر پر تکیہ رکھ کر یا پھر چادر یا کمبل سر تک اوڑھ کر سونے کی عادت ہوتی ہے-

Advertisement

لیکن یہ عادت انتہائی خطرناک بھی ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ اس صورت میں جسم کو ملنے والی آکسیجن میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے- دوسری جانب جسم میں داخل ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں اضافہ بھی ہوجاتا ہے اور یہ بھی خطرناک ہے- بیماری کے دوران کام: کچھ لوگ طبعیت بہتر محسوس نہ کرتے ہوئے بھی مسلسل کام میں مگن رہتے ہیں جبکہ وہ حقیقت میں تھک چکے ہوتے ہیں۔

Advertisement

اس حالت میں بھی مستقل کام کرتے رہنا آپ کے لیے مزید خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اور ضروری ہے کہ آپ تھوڑی کے لیے آرام کیجیے- آرام کرنے سے آپ ایک مرتبہ پھر توانائی اور چستی سے بھرپور ہوجاتے ہیں اور آپ کا دماغ بھی پہلے سے زیادہ فعال ہوجاتا ہے۔

Advertisement
Advertisement
کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں