Headlines

    پاکستان کے صوبہ سندھ میں ایسی بھی آبادی موجود تھی، جو پُراسرار طور پر غرق ہو گئ تھی

    موئن جوڈروں کا بنایا گیا نقشہ

    اس بات کی حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ ہرعروج کو زوال ضروری ہے، لیکن اگربات کریں تہذیبوں کے عروج اور زوال کی، انہیں باعث فخر سمجھا جاتا ہے تو کہیں باعث عبرت۔

     

     

    Advertisement

    لاڑکانا سے بیس کلو میٹر اور سکھر کے 80 کلو میٹر جنوب مغرب میں واقع ایک ایسی ہی وادی سندھ کی قدیم تہذیب “موئن جودڑو” ہے، جوکہ پاکستان کے صوبہ سندھ میں واقعہ ہے۔ کہا جاتا ہے دریائے سندھ کے رخ کی تبدیلی، بیرونی حملہ آ ور، زلزلہ یا نامعلوم وجوہات ان تہذیبوں کے خاتمے کا باعث بنی۔ اس علاقے کا اصل نام تو پتہ نہیں ہے لیکن اسے موئن جودڑو یعنی “مردوں کا ٹیلہ” کہا جاتا ہے۔

     

    مزید پڑھیے: انوکھی سوتن

    Advertisement

     

    تقریبا اڑھائی سو ایکڑ پر پھیلے ہوئے ٹیلوں کے نیچے زندگی کے آثار ملتے ہیں۔ ١٩٢٢ میں محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر سر جان مارشل نے دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے یہاں کھدائی کا کام شروع کروایا جو کہ ١٩٦۵ تک وقتاٙ فوقتاً جاری رہا۔اور پھر ١٩٦۵ میں موجدہ ڈھانچے کو نقصان کے باعث اس پر پابندی لگا دی گئ۔

     

    Advertisement

    مزید پڑھیے:  پاکستان کا ایسا شہر جو پُراسرار طور پر تباہ۔

     

    یہ شہر دریائے سندھ کے اندر جزیرہ نما خشکی پر واقع تھا اس کے ایک طرف دریائے سندھ اور دوسری طرف دریائے سندھ سے نکلنے والا نالا بہتا تھا اور یہاں ایک میل لمبا حفاظتی بند باندھا گیا تھا۔ اس علاقے میں بارہا سیلاب کی تباہ کاریوں کا ثبوت ملتا ہے۔ کھدائی کے وقت جو آثار سب سے زیادہ گہرائی سے ملے ہیں وہ سب سے زیادہ ترقی کا پتہ دیتے ہیں۔ پختہ مکانات، بازار، سڑکیں اور اس تہذیب کا رہن سہن اس کے عروج کی نشانی ہے۔

    Advertisement

     

     

    کھدائ سے نکالی گئ جگہ

     

    Advertisement

    کھدائ کر کے دریافت ہونے والی مہریں

     

     

    موئن جودڑو میں قلعہ اصل شہر کے اندر ایک ممتاز حیثیت رکھتا تھا، جس کے ارد گرد گلیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ قلعہ ایک چبوترے پر واقع ہے، جو مٹی اور کچی اینٹوں سے بنایا گیا تھا۔ کھدائی سے ایک عظیم تلاب اور بہت بڑی بڑی عمارتوں کے آثار بھی ملے ہیں، جن میں بڑے بڑے ہال اور بیرکوں کے نشانات ملے ہیں۔

    Advertisement

     

     

    یہاں کے لوگوں کا پیشہ زراعت اور تجارت تھا گندم اور کپاس کاشت کی جاتی تھی۔ کپاس کے دھاگے سے بنے ایک کپڑے کا ٹکڑا بھی ملا ہے، جس پر سرخ اور میجیٹھی رنگ ہیں جو آج بھی سندھی اجرک کے مخصوص رنگ ہیں۔

    Advertisement

     

    مزید پڑھیے: خانہ کعبہ شریف کی دیوار پر رُکنِ یمنی کے مقام پر درار کی تاریخ جانئے۔

     

    Advertisement

    یہاں کے تجارتی سامان میں ہاتھی کے دانت ، کپاس سوتی دھاگہ سوتی کپڑا اور اجرک شامل تھے۔

     

     

    Advertisement

    کھدائی کے دوران 12 سو سے زائد مہریں ملی ہیں، جن پر بیل، گھوڑا، ہاتھی ،ایک سینگ والے گینڈے اور شیر کی تصویریں بنی ہوئی ہیں۔ کچھ مہروں پر ایک سے زیادہ جانوروں کے سروں کی تصویریں ہیں۔

     

    یہاں سے گیارہ مجسمے ملے ہیں جن میں زیادہ تر پر ایک ہی شخص دکھایا گیا ہے جو کہ غالباً مذہبی رہنما ہو سکتا ہے۔ دنبے اور ہاتھی کی شکل کا مجسمہ بھی ملا ہے گویا زیادہ ترمجسمے مذہبی اہمیت کے حامل ہیں۔

    Advertisement

     

    مجسموں کے علاوہ مٹی کی بہت سی مورتیاں بھی ملی ہے، جن میں کچھ انسانی اور کچھ حیوانی مورتیاں ہیں۔ اور کچھ کا آدھا حصہ انسان اور آ دھا کسی جانور کا ہے۔ مٹی کی بنی بیل گاڑیاں، گڑیاں اور دوسرے کھلونے اور بہت سے برتن ملے ہیں جن پر سجاوٹی نمونے جیسے مور ، مچھلیاں ، ہرن اور کچھ پھول بنے نظر آتے ہیں۔

    کھدائ سے دریافت ہونے والے کچھ زیورات اور انسانی ڈھنچے کی لی گئ تصویر

     

    Advertisement

    عورتیں سونے چاندی اور قیمتی پتھروں کے بنے ہوئے زیورات استعمال کرتی تھیں۔ زیورات میں ہار، گلوبند ، کنگن کے علاوہ کمربند ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ سونے کے تعویذ اورسرخ عقیق سے منکے بنائے جاتے تھے۔ سرمہ دانی، سرمہ لگانے کی سلائی اور تانبے کے آئینے بھی میسر تھے۔

     

    مزید پڑھیے: جا نئے پانی میں موجود قبر جسے آج تک کچھ نہیں ہوا

    Advertisement

     

    لباس کے بارے میں کچھ خاص تفصیلات نہیں مل سکیں مرد چوغہ پہنتے تھے، عورتیں دھوتی باندھتی تھیں امیر عورتیں اس کے اوپر کمر بند باندھتی تھیں۔

     

    Advertisement

     

    وادی سندھ کے پراسرار رازوں میں سے ایک راز یہاں کا رسم الخط ہے ۔موئن جودڑو کی کھدائی کو 100 سال مکمل ہو چکے ہیں مگر تاحال اس قدیم شہر سے ملنے والی اشیا پر لکھی تحریروں کو نہیں پڑھا جا سکا، جس کے باعث اس پُراسرار شہرکے بہت سے حقائق کے بارے میں آج تک پتہ نہیں چل سکا۔

    اس وقت کی زبان میں لکھی گئ کچھ دریافت شدہ تحاریر جسے آج تک نہیں پڑھا جا سکا

    محظ بے جان اور خاموش نظر آنے والایہ شہر”موئن جو دڑو” قدیم تہذیب کا شاہکار ہے، جس پر تحقیقات ابھی تک جاری ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس قدیم تہذیب کے آثار کوموثر بنانے کے لیے حکومت اقدامات کرے۔

    Advertisement

     

    مزید پڑھیے: ایسی تصویر جس نے فوٹوگرافر کو خودکشی پر مجبور کر دیا

     

    Advertisement

    اس کے ساتھ ساتھ یہ آج کے ترقی یافتہ قوموں اور پوری دنیا کے لیے ایک منہ بولتی نصیحت ہے کہ کس طرح ایک ترقی یافتہ قوم اس دنیا سے نست و نبود ہو جاتی ہے اور اس کا نام ونشان بھی نہیں ملتا۔ اللہ تعالی نے انسان کو دنیا میں موجود مختلف قسم کی نشانیوں سے ہدایت دینے کی ترغیب دی ہے۔ اگر اب بھی ایک انسان اس سے لاشعوری کا بہانہ کریں اور دنیا کی تو کو دو میں گم جائے، تو اس کے لئے اللہ تعالی نے بھی کہا ہے کہ بے شک انسان خسارے میں ہے۔

     

    مزید پڑھیے: گرمی میں پسینے کی بدبو دُور کرنے کا طریقہ

    Advertisement

     

    نوٹ: یہ ایک تاریخی واقعہ ہے، جس پر مختلف آراہ رکھی جاسکتی ہے۔ آپنی رائے اور واقعہ میں اضافہ کے لئے کمنٹ بکس کا استعمال کریں یا پھر ہمیں اس ای میل اڈریس پر۔رابطہ کرے.
    reporter.aitmaadtv.com

    Advertisement