شوہر ہر وقت ہسپتال رہتا ہے، مجھے وقت نہیں دیتا، طلاق دلوائی جائے، داکڑ کی حیرت انگیز انکشافات..

شوہر ہر وقت ہسپتال رہتا ہے ‘مجھے وقت نہیں دیتا ،طلاق دلوائی جائے ‘ کوروناکے باعث ڈاکٹروں کی گھریلوزندگی تباہ، نوبت طلاقوں پر پہنچ گئی۔ دنیا بھر میں کورونا وائرس پھیلنے کے بعد ڈاکٹروں کی زندگی اجیرن ہوکر رہ گئی، ڈاکٹروں کی ہسپتالوں میں طویل ڈیوٹیوں کے باعث ان کی گھریلو زندگیاں برباد ہو کر رہ گئی ہیں،

 

ڈاکٹروں لمبی ڈیوٹی کے باعث گھروالوں کو ٹائم نہیں دے پا رہے جس کی وجہ سے اب مسائل سراٹھانا شروع ہو چکے ہیں۔

Advertisement

 

 

تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات کی ریاست الفجیرہ کی شریعت عدالت میں ایک عرب خاتون نے طلاق کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ خاتون کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر ہر وقت ہسپتال میں رہتے ہیں اور ان کی واحد دلچسپی کورونا کے مریضوں کا علاج ہے۔ مجھے وقت دیتا ہے اور نہ ہی میری عزت کرتا ہے۔ طلاق دلوائی جائے۔

Advertisement

 

 

الامارات الیوم کے مطابق جج نے طلاق کا مطالبہ کرنے والی خاتون سے دریافت کیا کہ عدالت کو یہ بتایا جائے کہ آپ کو شوہر سے کیا تکلیف ہے؟ خاتون نے اپنا بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہفتوں اور مہینوں ملاقات ہی نہیں ہوتی اور دو ننھی بچیاں بھی ہیں۔

Advertisement

 

دونوں کی دیکھ بھال کے سوا کوئی کام نہیں۔ خاتون نے عدالت کو بتایا کہ بچیوں کو باپ کی شفقت درکار ہے۔ بچیوں کی تربیت کے سلسلے میں شوہر کی مدد کی ضرورت ہے۔ شوہر کو حکم دیا جائے کہ وہ حقوق ادا کرے۔ گھر کی ضرورت کا سامان، میرے اور بچیوں کے اخراجات ادا کرے۔

 

Advertisement

 

خاتون نے کہا کہ اب اپنے شوہر کے منفی رویے سے تنگ آ گئی ہوں۔ اس کی نظر میں میری کوئی حیثیت نہیں۔ گھر سے کئی بار دھکے دے کر نکال چکا ہے۔ بات چیت کے ذریعے افہام و تفہیم کی ساری کوششیں ختم ہوچکی ہیں۔ اس کا رویہ انتہائی غیر مہذب ہے۔

 

Advertisement

 

مزید جانیۓ: خاتون کو غیر اخلاقی تصاویر سے بلیک میل کرنے والا شخص گرفتار لیکن جب ایف آئی اے نےاسے پکڑا تو وہ کون نکلا؟ گھر والے بھی حیران رہ گئے۔۔۔

 

Advertisement

 

عدالت میں شوہر نے اپنے دفاع میں کہا کہ سرکاری ہسپتال میں بحیثیت ڈاکٹر کام کررہا ہوں۔ بحرانی صورتحال کا تقاضا ہے کہ میں گھر سے زیادہ وقت ہسپتال میں گزاروں۔ مجھے جب بھی موقع ملتا ہے ملنے کے لیے گھر پہنچ جاتا ہوں لیکن یہ درست ہے کہ لمبی ڈیوٹی کی وجہ سے میں اپنی بیوی کے ساتھ مکالمے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔

 

Advertisement

 

انہوں نے عدالت کے سامنے اپنی مجبوری بیان کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت تو یہ ہے کہ بیوی کی مسلسل فرمائش ہے کہ میں اس کے ساتھ بیٹھوں اور گھریلو امور میں اس کی مدد کروں۔ ان دنوں بڑی مشکل میں ہوں- کام کرتے کرتے تھک جاتا ہوں۔

 

Advertisement

اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں بچیوں میں کوئی دلچسپی نہیں لیتا۔ میں نہ ان کی ضروریات نظر انداز کرتا ہوں اور نہ ہی بچیوں کے ساتھ ناشائستہ زبان استعمال کرتا ہوں۔ دونوں بچیوں سے بہت پیار کرتا ہوں اور طلاق اس کا حل نہیں۔ حل یہ ہے کہ بیوی میری مجبوری کو سمجھے۔

 

 

Advertisement

فجیرہ کی شریعت عدالت نے طلاق کا دعوی مسترد کردیا اور بیوی کو حکم دیا کہ وہ اپنا دعوی ثابت نہیں کرسکی ہے لہذا وہ شوہر کے ہمراہ مصالحت کے ساتھ زندگی گزارے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *