یوکرین کی طرح ہر کسی نے میرے ساتھ کی حامی بھری لیکن پھر کسی نے ساتھ نہیں دیا! میاں نواز شریف ۔

    لاہور ( اعتماد ٹی وی ) روس یوکرین کے درمیان جاری عالمی تنازع کو مغرب نے خوب ہوا دی ہے ۔ یورپ و امریکہ نے یوکرین کے صدر کو کہا کہ قدم بڑھاؤ ہم تھمارے ساتھ کھڑے ہیں اب جب یوکرینی صد ر کو سب کی ضرورت ہے تو کوئی بھی عملی طور پر مدد نہیں کر رہا ۔

     

     

    Advertisement

    حال ہی میں یوکرینی صدر نے اپنا پیغام جاری کیا ہے کہ یوکرین کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہے ۔ کوئی بھی اس وقت ساتھ نہیں دے رہا لیکن میں آخری دم تک یہی رہوں گا ۔

     

     

    Advertisement

    یوکرینی صدر نے بتا یا کہ دشمن کا پہلا نشانہ میں ہوں دوسرا نشانہ میرا خاندان ہے ۔ میں اور میرا خاندان آخری سانس تک یہی رہیں گے ۔ روس کی فوج یوکرائن دارالحکومت کیف تک پہنچ گئی ہے اور یوکرینی صدر کی حکومت کو ختم کر کے اپنی مرضی کا صدر وہاں بٹھا سکتی ہے ۔ یوکرینی صدر کی یورپی یونین میں شامل ہونے کی خواہش نے یوکرین کو اس صورتحال تک پہنچایا ہے ۔

     

     

    Advertisement

     

    آج یوکرین کی مدد کرنے کی بجائے صدر کو صرف زبانی کلامی تسلیاں دی جارہی ہیں ۔ جب ایسے وقت میں یوکرین کو مدد کی ضرورت ہے تو یورپ ممالک روس پر اقتصادی پابندیاں لگا کر اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو رہے ہیں ۔ تاہم یوکرینی صدر نے آخری بار جوبائیڈن سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے مد د مانگی ہے لیکن کوئی کامیابی نظر نہیں آ رہی ۔

     

    Advertisement

     

    اس تمام صورتحال کے بعد یوکرینی صدر نے روس کو مذاکرات کی پیش کی ہے ۔ یوکرینی صدر کا یہ فیصلہ ملک لوگوں کی جانوں کی تحفظ کے ہے ۔ روس اس وقت پر غرور ہے کہ اور اپنی طاقت کے زور پر وہ یوکرینی صدر کو دنیا میں ناک رگڑنے پر مجبور کر دے گا ۔

     

    Advertisement

     

    اور روس کے خلاف بنائے جانے والے تمام قوانین کو ختم کیا جائے گا اور یوکرین سے آزادی حاصل کرنے والوں کی خود مختار حیثیت کو تسلیم کیا جائے ۔

     

    Advertisement

     

     

    اس تنازع سے تمام نیٹو ممالک کو یہ پیغام دیا ہے کہ روس و یورپ ممالک سے تعلقات جتنے مرضی مضبوط کریں لیکن ان کے مخالف قدم بڑھانے والوں نے صرف زبانی دعویٰ کرنا ہے عملاً کوئی بھی ساتھ کھڑا نہیں ہوگا ۔ نہ ہی اپنی فوج اس کے لئے میدان میں اُتارے گا ۔

    Advertisement

     

     

     

    Advertisement

    ایسے جنرل پرویز مشرف کے دور میں جب میاں نواز شریف کو جلاوطن کیا گیا تو ہر شہری یہ جاننا چاہتا تھا کہ وہ واپس کب آئیں گے تو انھوں نے کہا مجھے بھی لوگوں نے کہا کہ قدم بڑھاؤ ہم تھمارے ساتھ ہیں میں نے جب قدم اس جانب بڑھایا تھا تو میرے پیچھے کوئی نہیں تھا۔

     

     

    Advertisement

     

    تنازع جس حد تک بھی ہو لیکن اس کو اس سطح پر مشاورتی طریقہ کار سے حل کرنا چاہئے نا کہ قیمتی جانوں کے ضیاع سے اپنی مقاصد کو پورا کیا جائے ۔

     

    Advertisement

     

    اس تنازع سے یہ بھی سبق ملتا ہے کہ ملک اپنی ساکھ اتنی مضبوط رکھنی چاہئے کہ وہ خود اپنا دفاع کر سکے ورنہ وہ اس حد تک جائے ہی نا کہ اسے کسی اور ملک کی مدد درکار ہو ۔

     

    Advertisement

     

     

    Advertisement