“اگر ہم عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کے ان کے ساتھ جاتے ہیں تو موجودہ وزارتوں سے استعفیٰ دینا ہو گا مگر ایسا کرنا” چوہدری پرویز الہی کا عدم اعتماد کے حوالے سے بیان نے اپوزیشن میں ہلچل مچا دی

    تحریک عدم اعتماد یا پھر موجودہ حکومت کس کا ساتھ دیں گے مسلم لیگ (ق)

     

     

    Advertisement

    لاہور ( اعتماد ٹی وی ) تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لئے مخالف تنظیموں نے مسلم لیگ ق سے رابطے ہموار کئے اور ان کے درمیان وزارتوں سے متعلق بات چیت کی گئی جس میں مسلم لیگ ق نے پنجاب کی وزارت کا مطالبہ کیا ۔

     

     

    Advertisement

    تاہم اس کے ساتھ مسلم لیگ ق نے اعلان کیا کہ موجودہ حکومت کو مدت مکمل کرنے دی جائے گی ۔ جمہوری نظام کے لئے ضروری ہے کہ ملک کی ساکھ کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔

     

     

    Advertisement

    بعدازاں حالات کے پیش نظر مسلم لیگ ق کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر نے کا کہا گیا۔ اس سلسلے میں پیپلز پارٹی کے سابقہ چئیر مین آصف علی زرداری بھی آگے بڑھے اور مولانا فضل الرحمان نے بھی مسلم لیگ ق کو قائل کر نے کی کوشش کی۔

     

     

    Advertisement

    جس پر ق لیگ کے رہنما اور پنجاب اسمبلی کے صدر و اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ اس پر سوچا جا رہا ہے ۔ وقت آنے پر فیصلہ کریں گے کس کا ساتھ دینا ہے۔

     

     

    Advertisement

    ذرائع کے مطابق ، چوہدری پرویز الٰہی نے صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کی انھوں نے کہا کہ ہماری پارٹی نے اس بات پر مشاورت کر لی ہے کہ کس کا ساتھ دینا ہے اور اس پر حتمی مشاورت جاری ہے ۔

     

     

    Advertisement

    مسلم لیگ(ق) ، عوامی بلوچستان پارٹی اور ایم کیو ایم تا حال ایک گروپ کی طرح یکجا ہو کر کا م کررہے ہیں۔ اور ہمارا فیصلہ ہے کہ اسمبلیاں اپنی مدت مکمل کریں گی۔ اس حوالے سے آئین و قانون واضح ہے۔ بحثیت اسپیکر قومی اسمبلی مجھے ان قوانین کی پاسداری کرنی چاہیے۔

     

     

    Advertisement

    تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ اگر ہم عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کے ان کے ساتھ جاتے ہیں تو موجودہ وزارتوں سے استعفیٰ دینا ہو گا۔

     

     

    Advertisement

    جو کسی بھی طرح دانش مند انہ فیصلہ نہیں ہے۔ تاہم تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے ملاقاتیں جاری ہیں ۔ شہباز شریف سے بھی اس سلسلے میں ملاقات ہو سکتی ہے اور آج جہانگیر ترین گروپ سے عون چوہدری بھی ملاقات کے لئے تشریف لائے تھے وہ کس کی حمایت کریں گے یہ دو روز تک پتہ چلے گا ۔ وزیرا عظم عمران خان کو ہا ر نہیں ماننی چاہیے اور کوشش جاری رکھنی چاہیے ۔

     

     

    Advertisement