وزیر اعظم عمران خان نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے متعلق اہم فیصلہ کر دیا۔

    اسلام آباد ( اعتماد ٹی وی ) حکومت مخالف جماعتوں کی جانب سے تحریک عدم اعتماد آج وزیرا علیٰ پنجاب کے خلاف قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

     

     

    Advertisement

    اور ن لیگ کے کارکنان اس حوالے سے مکمل یقین رکھتے ہیں کہ کامیابی ان کی ہو گی اور اس کے لئے انھوں نے متبادل نام بھی سوچ لیا ہے کہ آئندہ وزیراعلیٰ پنجاب ن لیگ کی جانب سے کس کو بنایا جائے گا۔

     

     

    Advertisement

    تاہم آج اس حوالے سے حکومتی وزراء کی میٹنگ ہوئی ۔ جس میں تحریک عدم اعتماد کے ساتھ ساتھ ملکی حالات کا جائزہ لیا گیا۔حکومت نے اپنے اتحادیوں کو منانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں آج ایک حکومتی وفد مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کے لئے گیا۔

     

     

    Advertisement

    جن حکومتی وفد نے ق لیگ کے چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کی ان میں اسد عمر ، شاہ محمود قریشی اور پرویز خٹک شامل تھے۔ جبکہ مسلم لیگ ق کی جانب سے وجاہت حسین، سالک حسین، مونس الہٰی ، طارق چیمہ اور پرویز الہٰی شامل ہوئے۔

     

     

    Advertisement

    ذرائع سے پتہ چلا کہ چند روز قبل مسلم لیگ ق کی جانب سے پنجاب کی وزارت مطالبہ کیا گیا تھا جس کے حکومت نے سوچنے کا وقت مانگا تھا ۔ لیکن ق لیگ کی جانب سے فیصلہ تحریک عدم اعتماد کے ووٹ سے قبل کرنے کا زور دیا گیا۔

     

     

    Advertisement

    تحریک عدم اعتماد کے بعد اس وزارت کے فیصلے کا کوئی مطلب نہیں بنتا ۔ تاہم آج حکومتی وفد نے اس حوالے سے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے حوالے سے وزیر اعظم کا اعتماد لے کر آئے ہیں اور وزیر اعظم اس بات پر آمادہ ہیں کہ پنجاب کی وزارت ق لیگ کو دی جائے۔ ملاقات کا مقصد وزیر اعظم کا پیغام چوہدری بردران تک پہنچانا تھا۔

     

     

    Advertisement