بچہ پیدا ہوتے ہی اگر اذان نا دی جائے تو کونسی موذی بیماری لاحق ہو سکتی ہے، حیرت انگیز حقیقت سامنے آگئی

    نومولود کے دنیا میں آتے ہی اذان دیں نہیں تو ۔۔۔

    لاہور (اعتماد ٹی وی) دنیا بھر میں روزانہ ہزاروں بچے پیدا ہوتے ہیں اور ہر مذہب کےمطابق ان کو نہلایا جاتا ہے ۔ ایشیائی ممالک میں دیکھا گیا ہے کہ بچے کے پیدا ہوتے ہی ڈاکٹروں کی جانب سے تین دن تک ان کو نہلانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

     

    Advertisement

    پہلے پہل چونکہ بچے کی پیدائش نارمل طریقے سے ہوتی تھی اس لئے گھریلو خواتین بچے کو فوراً نہلا دیتی تھیں ۔ پھر بڑے آپریشن کا دور شروع ہوا۔ اور ڈاکٹروں نے زیادہ سے زیادہ خواتین کو بڑے آپریشن کا مشورہ دے کر تکلیف سے نجات کے طریقے بتانے شروع کردئیے۔ اس کو کاروبار کا بہترین ذریعہ بنا لیا۔

     

    سیزئیرن سے پیدا ہونے والے بچوں کو نرسری میں رکھا جاتا ہے اور قریباً 5 سے سات گھنٹوں بعد ماں کے پاس لایا جاتا ہے۔ اسلام نے اس چیز کو نا پسند کیا ہے ۔ علماء کرام نے بھی کہا کہ بچے کے پیدا ہوتے ہی اس کو نیم گرم پانی سے نہلا کر نجاست سے پاک کریں۔اور پھر اس کے سیدھے کان میں چار بار اذان اور اُلٹے کان میں تین بار اقامت کہیں۔

    Advertisement

     

     

    اس عمل سے ناصرف بچے سے بلائیں دور ہو نگی بلکہ اگر ایسا کرنے میں تاخیر کی جائے تو اس سے مرگی کا مرض لاحق ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

    Advertisement