Headlines

    اکثر بچوں کے نام رکھتے ہوئے آپ نے سنا ہو گا کہ یہ نام نا رکھے یہ بھاری ہے وغیرہ وغیرہ، تو حدیث کی روشنی میں اس بات کی حقیقت بھی جان لے۔

    بچوں کے نام رکھنے پر مفتی طارق نے سب بتا دیا۔

     

    لاہور (اعتماد ٹی وی) انسان جب دنیا میں آتا ہے تو اس کو اسکی پہچان دینے کے لئے ایک نام متعین کیا جاتا ہے ۔ جو کہ اس کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے۔ نام ہمیشہ دیکھ بھال کر رکھنا چاہیے۔ اکثر لوگ بلا سوچے سمجھے نام رکھ لیتے ہیں جن کے مطلب عجیب سے ہوتے ہیں۔

    Advertisement

     

    ایسے مفتی طارق مسعود سے کسی نے سوال کیا کہ کیا ایسا ہے کہ کوئی نام کسی پر بھاری ہو ۔ یا کوئی ایسا نام جو بچے کی شخصیت کو بگاڑ دے تو مفتی صاحب نےواضح جواب دیا کہ یہ سب توہمات ہیں ہمارے مذہب میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ بچے کا نام رکھیں۔ شوق سے اور اچھا نام چن کر رکھیں۔

     

    Advertisement

    اچھے نام کا مطلب یہ نہیں کہ آپ فعال نکالیں اور دوسری طرح کے بدعتوں میں پڑیں۔ بلکہ ایسا نام جس کا مطلب اچھا ہو۔ حضورؐ نے بھی اپنے دور میں کچھ صحابہ کو نام بدلنے کا کہا صرف اس وجہ سے کہ ان کے مطلب اچھے نہیں تھے۔

     

    جیسے کہ حضرت ابراہیمؑ کے والد کا نام آذر تھا جس کا مطلب آگ ہے یا آگ کی پوجا کرنے والا۔ ایسا نام رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔
    اس کے ساتھ ساتھ نام کو بگاڑ کر بلانے سے بھی منع کیا ہے اگر کوئی اچھا لگتا ہے تو اس کا پیار کا نام پکارو لیکن اس کا نام نہیں بگاڑو۔

    Advertisement