اب جب 2023 میں ترکی اپنی سوسالہ پابندیوں سے چھٹکارا حاصل کرنے والا ہے، اس سے پہلے ہی ترکی نے نام تبدیل کرنے کی درخواست دے دی، وجہ جان کر آپ بھی حیران ہو جائینگے کہ ایسی ہوتی ہے خود دار قومیں۔

    ترکی نے اقوام متحدہ میں ملک کا نام تبدیل کرنے کی درخواست کردی۔

     

    آن لائن (اعتماد ٹی وی) ہر ملک کے شہری کی پہچان اس کا نام ہوتا ہے ۔ ترکی کی تاریخ کسی سے ڈھکی چھپنی نہیں۔ ترکی جب ٹکڑے ٹکڑے ہوا تو اس میں سے 16 نئے ملک بنائے گئے۔ اب 2023 میں ترکی اپنی سوسالہ پابندیوں سے چھٹکارا حاصل کرنے والا ہے۔

    Advertisement

     

    ترکی نے اس پابندی سے قبل ہی اپنے ملک کے نام کے حوالےسے بڑا فیصلہ کر لیا ۔ یکم جو ن کو ترک وزیر خارجہ میولوت چاوش اوغدو نے ایک مرسلہ جنرل سیکرٹری کے ذریعے جاری کیا جس میں یہ درخواست کی گئی تھی کہ ترکی نام کی بجائے ملک کا نام ترکیہ استعمال کیا جائے۔

     

    Advertisement

    اس کے ساتھ ہی ترکی کا نیا نام ترکیہ رکھ دیا گیا ہے۔ ترک صدر طیب اردگان کی جانب سے گزشتہ سال دسمبر 2021 میں اس بات کا اعلان کیا گیا تھا کہ وہ ملک کا نام تبدیل کریں گے۔ صدر کے مطابق ترکی ہی ثقافت کا بہترین نمائندہ یہ نام “ترکیہ” ہی ہو سکتا ہے۔

     

    نام تبدیل کرنے وجہ یہ ہے کہ جب انٹر نیٹ پر ترکی لکھا جاتا ہے تو اس کے ساتھ ایک امریکن پرندے کی تصاویر بھی سامنے آتی ہیں۔ جس کو تھینکس گیونگ یا پھر کرسمس جیسے تہواروں میں بطور خوراک استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کیمبرج ڈکشنری میں بھی اس لفظ کا مطلب احمق فرد یا ناکام درج ہے۔ اس لئے ترکی کے نام کو تبدیل کیا گیا ہے۔

    Advertisement

     

    نام تبدیل کرنے والے ممالک میں ترکی کا پہلا نمبر نہیں ہے اس سے قبل بھی کئی ممالک نے اپنے نام تبدیل کیے ہیں۔ جیسے کہ مقدونیا کا نام شمالی مقدونیا ہو گیا۔ 1935 میں پرشیا کا نام بدل کر ایران رکھا گیا ۔ نید ر لینڈ نےا پنے نام کے ساتھ ہالینڈ استعما ل کرنا ختم کر دیا۔ سیام کو اب تھائی لینڈ کے نام سے جانا جاتا ہے اور رہوڈیشیا کا موجودہ نام زمبابوے ہے۔

    Advertisement