پولیس اہلکار کو اپنے لیےچھتری پکڑا کر کھڑا کرنے پہ ڈپٹی کمشنر کے خلاف ڈی آئی جی کا سخت ایکشن۔

پاکستان جیسے غریب اور قرضوں میں ڈوبے ملک میں، پوری عوام ٹیکس کی مد میں پس رہی ہے، تاکہ ملک کا مستقبل اچھا ہو جائے اور خوشحا لی آئے، مگر مجال ہے کہ بیروکریسی کے سَر پر جُو بھی رینگی ہو، وہ وہی آپنی شہانہ زندگی گزار رہے ہیں، جو اُنکو انگریزوں نے عوام کو غلام بنا کر رکھنے میں عطا کی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ پُوری بیوروکریسی ہی ایسی ہے۔ جہا ں پر بُرے ہوتے ہیں، وہا ں اچھے بھی ہوتے ہیں۔

 

مزید پڑھیے: جن عورتوں میں یہ نشانیاں ہوں وہ بہت ہی بابرکت ہوتی ہیں، جہاں ملیں فوراً سے شادی کر لیں

Advertisement

 

جناب عمران خان صاحب کے زیرسایہ اسی ہوچھی حرکتیں بھی ہو رہی ہے، جن کا اُنکو شاید علم بھی نہ ہو۔ بات کریں گے، شکارپور کے ڈپٹی کمشنرجناب نوید لاڑک کی، جو آپنی شاہنہ زندگی میں اتنا مصروف تھے کہ اُن کے لئیے یہ تمیز رکھنا مناسب نیھں سمجھا کہ وہ سرکاری ملازموں سے سرکاری کام لے نہ کے ذاتی۔

تفصیلات کے مطابق، ڈپٹی کمشنر شکارپور نوید لاڑک کی جانب سے اپنی سیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکار سے ذاتی کام لینے کے خلاف میڈیا پر تصویر وائرل ہوئی۔ جس پر ڈی آئی جی لاڑکانہ عرفان بلوچ نے نوٹس لیا، اور فلفور ایس ایس پی شکارپور کامران نواز کو حکم دیا کہ ڈپٹی کمشنر شکارپور سے پولیس سیکیورٹی فوری طور پر واپس لی جائے۔

Advertisement

 

مزید پڑھیے: بلڈ پریشر اور کئی موزی بیماریوں کا علاج ایک لہسن میں دریافت۔

 

Advertisement

نجی ٹی وی دنیا کی رپورٹ کے مطابق، ایس ایس پی نے ڈپٹی کمشنر سے سیکیورٹی واپس لے لی ہے، ڈی آئی جی عرفان بلوچ کا کہنا ہے کہ پولیس سیکیورٹی کیلئے ہوتی ہے نہ کہ اپنے ذاتی کاموں کیلئے۔ اس عمل سے پولیس محکہ کی تذلیل ہوئی ہے۔ مزید کہا کہ آئندہ ایسا عمل برداشت نہیں کیا جائے گا۔

 

مزید پڑھیے: موجودہ دور کے بچے بدتمیز کیوں ہوتے جارہے ہیں 5 وجوہات

Advertisement

 

دوسری جانب، نمائندے کے مطابق ضلع شہید بینظیر آباد میں آئی جی سندھ کی جانب سے اعلی عدلیہ کے حکم پر برطرف کئے گئے55 پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں روکنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ایس ایس پی شہید بینظیرآباد تنویر حسین تنیو نے تحریری طور پر محکمہ خزانہ کو خط ارسال کردیا ہے۔ یاد رہے کہ 30 جولائی کو آئی جی سندھ نے پولیس اہلکاروں کو برطرف کرنے کا حکم دیا تھا ان پر2014میں سفارشی بنیاد پر بھرتی ہونے کا الزام تھا۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *