کیا سچ بولنا یا آزادری رائے گناہ ہو گیا ہے اس دھرتی میں؟ خبردار اگر آپ بھی حکومت کے خلاف کچھ بولیں گے تو آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا، لاہور میں صحافی کے ساتھ انتہائی افسوناک واقعہ

    سنئیر صحافی ایاز امیر پر نا معلوم افراد کی جانب سے دھاواں۔

     

    لاہور (اعتماد ٹی وی) حکومت خواہ کوئی بھی ہو اس میں میڈیا کو آزادی ہوتی ہے  صحافی کو آزادانہ کام کرنے کی اجازت دی جاتی ہے ۔ لیکن موجودہ حکومت کے دور میں یہ ممکن نہیں نظر آ رہا۔  مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی ایک نجی ٹی وی سے ذاتی چپلقش کی وجہ سے انھوں نے پریس کانفرس سے اس چینل کا مائک ہٹوا دیا۔

    Advertisement

     

     

    مریم نواز کا یہ اندا ز   قابل مذمت تھا لیکن چونکہ صحافت  سے تعلق رکھنے والے ادارے یکجا نہیں رہے اس لئے   کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا ۔ جس پر سوشل میڈیا پر کافی تنقید کی گئی ایسے ہی حکومت کے خلاف تجزیہ  دینے پر سنئیر صحافی پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا ۔

    Advertisement

     

     

    ایاز صادق کو تھپڑ مارے گئے ان کے کپڑے بھی پھاڑ دئیے گئے جس کی وجہ سے  تما م افراد نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس کی مذمت کی ہے کہ صحافت کو سیاست میں نہ لایا جائے ۔ اور انسان کی عمر کا بھی کوئی خیال نہیں۔ اس ملک میں اب کوئی محفوظ نہیں ۔

    Advertisement

     

     

     

    Advertisement

    پاکستان تحریک انصاف اور دیگر افراد کی جانب سے اس کی مذمت کی گئی اور حکومت سے اپیل کی گئی ہے  ان افراد کو ڈھونڈ کر سزاد یں تاکہ ملک میں آزادانہ صحافت   کا جو بیان دیا جاتا ہے وہ سچ ثابت ہو۔

     

     

    Advertisement