ایک مرتبہ مجھے پیسوں کی اشد ضرورت تھی اور میرے پاس کوئی ذریعہ نہیں تھا تو میں ایک مجلس میں درس دے رہا تھا اور دماغ میں سوچ رہا تھا کہ کس سے پیسوں کا سوال کروں اور پھر یوں ہوا کہ۔۔۔۔

    اللہ سے مانگیں اس کے عطا کرنے کی کوئی حد نہیں۔

     

    لاہور (اعتماد ٹی وی کے) انسان اپنے ہر عمل کے لئے اللہ کو جواب دہ ہے ۔ اور اپنی ہر ضرورت بھی اللہ سے ہی مانگ کر پوری کرتا ہے ۔ وہ رب ہے ہر شے پر قادر ہے وہ جانتا ہے اس کے بندے کو کب کیا چاہیے۔ اس نے تو دینے کے ذریعے بھی بنا رکھے ہیں بس بندے کے مانگنے کی دیر ہے پھر وہ عطاکرنے میں دیر نہیں کرتا ۔

    Advertisement

     

     

    عالم حضرات ایسے کئی ایمان افروز واقعات سناتے ہیں۔
    ڈاکٹر سیلمان مصاحبی صاحب نے اپنی زندگی سے ایک خوبصورت واقع تحریر کیا کہ ایک مرتبہ مجھے پیسوں کی اشد ضرورت تھی اور میرے پاس کوئی ذریعہ نہیں تھا تو میں ایک مجلس میں درس دے رہا تھا اور دماغ میں سوچ رہا تھا کہ کس سے پیسوں کا سوال کروں؟

    Advertisement

     

    میں سرکاری خطیب ہوں واپڈا ٹاؤن کا ، اور اللہ نے عزت عطا کی ہے تو ایسے میں کسی سے دست سوال دراز کروں ہوسکتا ہے وہ شخص باہر جا کر کسی کو بتا دے۔
    ایسی سوچیں لیے میں مجلس میں کھڑا تھا سلام پڑھنے کے بعد سب لوگ ہاتھ ملا کر جانے لگے تو ایک آدمی نے سلام کرتے ہوئے ہاتھ میں پیسے رول کر کے میرے ہاتھ میں دے دئیے اور جب مجھے پیسے محسوس ہوئے تو میں نے اُس آدمی کو کہا کہ میں درس کے پیسے نہیں لیتا ۔ آپ یہ واپس لے لیں ۔

     

    Advertisement

    تو اُس آدمی نے میرے گلے مل کر آہستہ آواز میں کہا آج منع نہ کریں کہ آج ضرورت ہے۔ یہ سن کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے کہ اللہ سے لو لگائی تو اللہ نے مجھے نواز دیا ۔

     

     

    Advertisement

    میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایسے میری مدد ہو جائے گی ۔ اور جتنے پیسوں کی مجھے ضرورت تھی اتنے ہی پیسے مجھے اُس شخص کے ذریعے بھیجے گئے۔تو اللہ سے لو لگائیں وہ سب جانتا ہے کس کے لئے کیا ضروری ہے؟

     

     

    Advertisement