انگلیاں چٹخانا کیسا عمل ہے ؟ کیا یہ ایک حرام کام ہے؟ جانئے

    انگلیاں چٹخانا کیسا عمل ہے ؟ کیا یہ ایک حرام کام ہے؟

     

    کراچی (اعتماد ٹی وی) بچوں میں جب احساس کمتری پیدا ہوتا ہے تو ان میں اس طرح کی کئی عادتیں دیکھنے میں آتیں ہیں جونارمل زندگی کا حصہ نہیں ہوتی۔ والدین اگر بچوں کی نفسیات پر غور کریں تو باآسانی جان لیں گے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔

    Advertisement

     

     

    بچے جب ڈر جاتے ہیں تو ان میں انگوٹھا چوسنا ، ہکلانا، انگلیاں چٹخانااور بستر گیلا کرنا جیسی عادات پیدا ہوجاتی ہیں۔ ان میں سے کچھ عادات تو وقت کے ساتھ ساتھ ٹھیک ہو جاتی ہیں لیکن کچھ ان کی نفسیات کا حصہ بن جاتی ہیں۔

    Advertisement

     

     

    انگلیاں چٹخانا بھی ایک ایسا ہی عمل ہے۔ جس میں جب کوئی انسان نروس ہو ، کوئی بات کہنے کی ہمت نہ رکھتا ہو تو وہ انگلیاں چٹخاتا ہے۔ مفتی طارق مسعودسے سوال کیا گیا کہ کیا یہ ایک حرام عمل ہے۔ تو انھوں نے فرمایا کہ یہ ایک ناپسندیدہ عمل ہے کچھ افراد صرف آواز سننے کے شوق میں انگلیاں چٹخاتے ہیں ۔

    Advertisement

     

    اس سے نہ صرف انگلیوں کے جوڑ ٹیڑھے ہوتے ہیں بلکہ حضور ؐ نے بھی اس عمل کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے اس لئے جس کام کا نہ کوئی فائدہ ہے اور نہ آپ کو آخرت میں کوئی فائدہ دے گا تو آپ نے وہ کام کرنا ہی کیوں ہے۔

     

    Advertisement