ترک صدر نے اسلام کی دُنیا میں ایک اور معرکہ مار لیا، پوری دُنیا کے مسلمانوں میں خوشی کی لہر

    ہاگیہ صوفیہ مسجد کے بعد، ترکی کے تاریخی چورا چرچ کو بھی مسجد میں بدل دیا گیا۔

     

    رئیوٹرز خبررساں ادارے کے مطابق، ترکی کے صدر طیب اردگان نے ہا گیہ صوفیہ کو مسجد مین بدلنے کے ایک ماہ بعد ہی استنبول کے سب سے مشہور چورا چرچ کو جمعہ کے روز مسجد میں تبدیل کردیا۔ یہ بات جاننا بہت ضروری ہے کہ بزنطین کی عمارتوں میں سے یہ ایک تاریخی عمارت ہے۔ یہ چرچ قدیم اور تاریخی شہر قسطنطنیہ کی دیواروں کے قریب تعمیر کیا گیا تھا۔

    Advertisement

     

    مسلم عثمانیاں سلطنت نے جب 1453 میں یہ شہر فتح کیا تھا، تو ان دیواروں کو پلستر کروادیا تھا۔ لیکن ان عمارات پر اس وقت دوبارہ روشنی ڈالی گئ، جب ترکی کی سیکولر حکومت نے ستر سال پھلے ہاگیہ صوفیہ کو عجائب گھر میں تبدیل کیا تھا۔

     

    Advertisement

    مزید پڑھیے: تاریخی عبادت گاہ آیا صوفیہ میں 86 سال بعد نمازِ جمہ ادا کی گئی۔ تاریخ میں یہ مسجد کن مراحل سے گزری۔ دلچسپ تحریر پڑھیں

     

    ترک صدر اردگان، جن کی سیاسی پارٹی اسلام سے منسوب ہے، انہوں نے اپنے آپکوں ترکی کے ساتھ ساتھ پُوری دُنیا کے مسلمانوں کا مسیحہ کے طور پرپیش کیا ہے۔ اور وہ پچھلے ماہ ہاگیا صوفیہ میں 86 سالوں بعد پہلی نماز میں ہزار نمازیوں کے ساتھ شامل ہوئے۔

    Advertisement

     

    چرچ کے رہنماؤں، عیسائی برادری اور کچھ مغربی ممالک کی طرف سے، مسلمانوں کے اس پیش رفت کی شدید تنقید کی گئی۔ انکا یہ کہنا ہے کہ صوفیہ کو خصوصی طور پر مسلمان عبادت کے لئے واپس لانے سے گہری مذہبی تنازعات کی امید کی جاسکتی ہے۔

     

    Advertisement

    مزید پڑھیے: حجرہ اسود کی وجہ سے کونسی بڑی ہونے والی جنگ کو نبیؐ نے روک لیا تھا

     

    یاد رہے کہ پچھلے ہی سال ترکی میں ایک عدالت نے 1945 میں موجود حکومت کے چوراچرچ کو عجائب گھر میں تبدیل کرنے کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔

    Advertisement

    جمعہ کے روز، اردگان کے دستخط شدہ حکم نامے اور ترکی کے سرکاری گزٹ میں شائع ہونے والے ایک فرمان میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ کاری یعنی چورا چرچ کی انتظامیہ کو مذہبی امور کے نظامت میں منتقل کردیا جائے، اور اس مسجد کو عبادت کے لئے کھول دیا گیا جا ئے۔

     

    مزید پڑھیے: حجر اسود کیسے جنت سے زمین پر اُتارا گیا۔

    Advertisement

    تاریخ کی اگر بات کرے تو یہ چرچ پہلی بار اسی مقام پر چوتھی صدی میں تعمیر کیا گیا تھا۔ لیکن زیادہ تر موجودہ عمارت گیارہویں صدی کے چرچ کی ہے۔ یہ عمارت ایک زلزلے کے دو سو سال بعد جزوی طور پر دوبارہ تعمیر کی گئی تھی۔

     

    مزید پڑھیے: جا نئے پانی میں موجود قبر جسے آج تک کچھ نہیں ہوا

    Advertisement

    جمعہ کے روز دیے جانے والے ترک حکم نامے میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گی کہ پہلی مسلمان نماز چورا میں کب ادا کی جائے گی ۔