ٹوکن والے نے کہا آپ چلے جائے، یہاں سے ٹوکن نہیں ملتا؛ لاہور میٹرو بس کا بھانڈہ پھوٹ گیا

    لاہور (اعتماد نیوز) کرونا کے بعد جیسے ہی مخلتف ادارے اپنی پرانی رووٹین کے مطابق کُھلنے لگے، ویسے ہی سب سے زیادہ ضرورت ذرائع ابلاغ کی تھی۔
    مزید پڑھیں: بوم بوم آفریدی نے ایسا کارنامہ کر دیا جو حکومت دو سال میں نہ کر سکی
    نجی بس سروسز نے احتجاج کر کے بس سروسز کا آغاز کیا۔ لکین حکومت نے احتیاطی تدابیر کے مد نظر، سرکاری بسز کی سروس کا آغاز نہیں کیا۔

     

    مزید پڑھیں: عاصم باجوہ نے نوکریوں کے بارے میں اہم اعلان کر دیا

    Advertisement

     

    حال میں ہی، لاہور میٹرو بس سروس کا آغاز عوام کی سہولت کے لئے کیا گیا۔ لیکن قابل افسوس بات یہ ہے کہ کسی بھی قسم کی حقیقی حفاظتی تدابیر کے بغیر یہ آغاز کر دیا گیا۔ جو کہ مسافروں کے لئے چلتا پھرتا خطرہ ہے۔ اس کے ساتھ میٹروں بس سروسز کی انتظامیہ اور بسوں کی حالت بھی تشویش ناک ہے۔ نا ہی کو صفائ کا خاص انتظام ہے اور نا ہی گھاڑی میں مناسب ہوا کی انداج اور اخراج یا ایئر کنڈیشنر کا انتظام ہے۔ بسیں گرم چولہے کا منظر پیش کرتی ہے، جس میں عوام کے سفر کرنا بہت ہی مشکل ہے۔

    مزید، مسافروں کے لئے نہ تو ماسک کا انتظام ہے اور نہ ہی انٹری گیٹ پر سینیٹائزر کا انتظام ہے، جو کہ واضح ایک زندگی بڑا خطرہ ہے۔

    Advertisement

     

    مزید پڑھیں: ؤہاڑی کے چڑیا گھر سے ایسے نایاب جانور غائب کے سب حیران و پریشان

     

    Advertisement

    انتظامی امور بھی اتنے بُرے ہے کہ ایک بوڑھا شخص اتنی سیڑھیاں چڑھ کر اوپر جاتا ہے اسٹیشن پر ٹو کن لینے کے لئے تو پتہ چلتا ہے، کہ ٹوکن کی سرسوس ہی معطل ہے کیونکہ اس اسٹیشن پر صرف کاڑد چلتا ہے۔ اس بیچارے بوڑھے شخص کو واپس انھی پاؤں نیچے اترنا پرتا ہے۔ جو کہ بہت ہی مشقت کا کام ہے۔ قابل رنجش بات یہ ہے کہ انتظامیہ نے اتنی سیڑھیاں چرنے سے پہلے کوئ بھی ایسا بینر یا اشتہار نصب نھی کیا کہ اسٹیشن پر ٹوکن کی سہولت موجود نھی ہے تاکہ لوگ خصوصاً بزرگ افراد کو اتنی مشقت اوپر چڑھ کے دوبارہ نیچے نہ آنا پڑے۔
    حکومت وقت سے یہ اپیل ہے عوم الناس پہلے ہی مشکلات کی چکی میں پسی چلی جا رہی، اب عوام پر رحم کیا جائے اور انکے لئے آسانیاں پیدا کی جا ئے۔