Headlines

نماز میں اگر کوئی اس لئے ٹوپی نا پہنے کے اس کے بال خراب ہوجائینگے تو اس کے لئے کیا حکم؟ جانئے مفتی صاحب سے؛ آپ کی زندگی بدل دے گا۔

نماز میں اگر کوئی اس لئے ٹوپی نا پہنے کے اس کے بال خراب ہوجائینگے تو اس کے لئے کیا حکم؟ جانئے مفتی صاحب سے؛ آپ کی زندگی بدل دے گا۔

 

 

 

Advertisement

اعتماد ٹی وی! مسلمانوں میں نماز ایک اہم رکن ہے اور فرض ہے یعنی اس کے بغیر آپ صرف نام کے مسلمان ہیں۔ اس کے ساتھ ہی نماز کو ادا کرنے کے لئے مکمل تفصیل موجود ہے کہ باوضو ہو کر نماز کی ادائیگی ہوتی ہے۔

 

 

 

Advertisement

 

اسی سے ملتا جلتا ایک مسئلہ یہ ہے کہ کیا نماز کی ادائیگی ٹوپی پہنے بغیر ٹھیک ہے یا نہیں؟ اس پر بات کرتے ہوئے مفتی اکمل نے وضاحت سے جواب دے کر اس مسئلہ کے بارے میں رہنمائی فرمائی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس نیت سے ٹوپی نا پہنی جائے کہ اس سے بال خراب ہوجائینگے تو یہ بلکل تکبر میں آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں عاجزی چاہئے اور مسکینی والی صورتحال ہونی چاہئے۔

 

 

Advertisement

 

ان کا مزید کہنا تھا اگر کسی کو ٹوپی لینے سے نماز میں خلل پیدا ہو یعنی کوئی تکلیف ہو یا سر میں گرمی لگے یا خارش ہو تو ایسی صورتحال میں علماء اکرام کا کہنا ہے کہ ٹوپی کے بغیر نماز پڑھنی چاہئے تاکہ وہ دل لگا کر نماز کی ادائیگی کر سکے۔

 

 

Advertisement

 

 

In Islam, prayer is a fundamental pillar and obligatory for every Muslim. The detailed guidelines for performing prayer emphasize the importance of being in a state of ritual purity (wudu) before prayer.

 

Advertisement

 

A common question arises regarding the necessity of wearing a cap during prayer. Mufti Akmal provides a clear explanation on this matter. He states that intentionally avoiding a cap due to concerns about hair damage is considered an act of arrogance. He emphasizes the importance of humility and modesty before Allah SWT.

 

 

Advertisement

 

However, Mufti Akmal acknowledges that in certain situations, wearing a cap can hinder one’s ability to focus on prayer. If the cap causes discomfort, heat, or itching, scholars have permitted praying without it to ensure a distraction-free prayer experience.

 

 

Advertisement