Headlines

جنازے کے ساتھ چلتے ہوئے کلمہ شہادت کی صدا لگانا کیسا ہے؟َ کیا یہ جائز ہیں یا نہیں کیا اس طریقے سے میت کی کو قبر میں سوالوں کے جوابات میں آسانی ہوگی یا میت کے گناہوں میں کمی ہوگی غامدی صاحب نے حقیت عیاں کر دی

جنازے کے ساتھ چلتے ہوئے کلمہ شہادت کی صدا لگانا کیسا ہے؟َ کیا یہ جائز ہیں یا نہیں؟ کیا اس طریقے سے میت کی کو قبر میں سوالوں کے جوابات میں آسانی ہوگی یا میت کے گناہوں میں کمی ہوگی؟ غامدی صاحب نے حقیت عیاں کر دی

 

 

اعتماد ٹی وی! اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ ہمارے کوئی عزیز یا جاننے والا فوت ہو تو میت کو کندھا دیتے وقت لوگ اونچی آواز سے کلمہ شہادت کی صدا لگاتے ہیں اور اس کے جواب میں باقی ساتھ چلنے والے لوگ کلمہ شہادت کا ورد کرنے لگ پڑتے ہیں اس طرح یہ سلسلہ میت کو گھر سے اُٹھانے سے لیکر اس کو دفنانے تک چلتا رہتا ہے۔ اور یہ طریقہ زیادہ تر سُنی فرقے کے لوگوں میں پایا جاتا ہے۔

 

Advertisement

 

اسی مسئلے کا جواب دیتے ہوئے، مہشور زمانہ اسلامی سکالر جاید احمد غامدی صاحب کا کہنا تھا کہ اس رسم کا نبیﷺ کے زمانے سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ برصغیر کی ایجاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس میں حکم یہ ہے کہ بہت عزت اور احترام کے ساتھ میت کو اُٹھائے اور خدا کو یاد کرتے ہوئے بہت خاموشی کے ساتھ میت کو لے کر جائے۔

 

 

Advertisement

اسی مسئلے کے ساتھ ایک اور سوال پوچھا گیا کہ کیا اس طریقے سے میت کی کو قبر میں سوالوں کے جوابات میں آسانی ہوگی یا میت کے گناہوں میں کمی ہوگی؟

 

 

تو اس کے جواب میں غامدی صاحب نے جواب دیا کہ اس سے شاید اس کے لئے اور مشکل پیدا ہوجائے اس لئے اس سے اجتناب کرنا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو طریقہ پیغمبرﷺ کے زمانے میں رہا اور صحابہ کے دور میں رہا اسی کو اپنانا چاہئے۔

 

Advertisement

 

This article discusses the practice of chanting the Shahada (declaration of faith) while carrying the funeral bier. The author, Javed Ahmed Ghamidi, a renowned Islamic scholar, argues that this practice has no basis in the teachings of the Prophet Muhammad (PBUH) and is instead a recent innovation. He states that the Prophet (PBUH) instructed his followers to carry the deceased with respect and silence, while remembering Allah.

 

 

Advertisement

Ghamidi further addresses the question of whether chanting the Shahada benefits the deceased in the afterlife. He asserts that this practice may actually hinder the deceased, as it distracts from the solemnity of the occasion and diverts attention from supplicating for the deceased’s forgiveness. He emphasizes the importance of adhering to the practices established by the Prophet (PBUH) and his companions.

 

 

Advertisement