والدین اپنے بچوں کو سکول بیھجنے سے پہلے ان ہدایات پر عمل یقینی بنائے، بصورت دیگر بچے کی جان کے خود ذمہ دار ہو گے۔

    حکومت کے سکولز کھولنے کے اعلان کے بعد، یہ بات والدین میں زیر بحث چل رہی ہے کہ بچوں کو کس طراح محفوظ طریقہ سے سکول بھیجا جائے کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنی صحت بھی ٹھیک رکھ سکے۔

    مزید پڑھیں: کیا آپ جانتے ہیں بارش سے پہلے چیونٹیوں کو کیسے پتہ چل چاتا ہے کہ بارش ہونے والی ہے

    درج ذیل ہدایت اس معاملے میں بہت اہمیت کی حامل، برائے مہربانی درج زیل ہدایات پر عمل کرکے اپنے بچوں کو سکول بھیجے تاکہ وہ تعلیم اور تندرستی کو یقینی بنا سکے۔

    Advertisement

    سب سے پہلے بچے کو صبح سویرے اٹھنے کی عادت ڈالے۔ تاکہ وہ صبح اُٹھ کر ورزش اور چہل قدمی کو اپنا معمول بنائے۔
    صبح کی چہل قدمی کے جہاں بے شمار مختلف فوائد ہے وہی اس کے یہ فائدہ بھی ہے کہ یہ بچوں کو اچھا ناشتہ کرنے میں مدد دیتا ہے۔

    مزید پڑھیں: دنیا کا سب سے بدبودار اور مہنگا ترین پھل، جسے عوامی مقامات پر کھانے کی بھی اجازت نہیں

    ماہرین غذا کے مطابق، انسان ساری رات سو کر گزارتا ہے تو اس کا معدہ ساری رات کام کرکے مکمل طور پر خالی ہو جاتا ہے اس لئے صبح ناشتہ میں اچھا ناشتہ کرنا چاہئے۔

    Advertisement

    بچوں کو سکول جانے سے پھلے اور سکول سے آنے کے بعد نہانے کا معمول بنائے، اگر دو وقت نہانہ ممکن نہیں ہے تو ایک وقت ضرور نہائے اور وہ سکول سے آنے کے بعد نہائے تاکہ کے بچے کے ساتھ اگر کوئ انفیکشن آیا بھی ہو، تو اسکا خاتمہ یقینی ہو جائے۔

    مزید پڑھیں: پاکستان کے صوبہ سندھ میں ایسی بھی آبادی موجود تھی، جو پُراسرار طور پر غرق ہو گئ تھی

    اگر آپ مسلمان ہے تو بچے کو سکول بھیجنے سے پہلے آیتہ الکرسی پڑھ کر پُھونک مار دے۔ اللہ اس پاک کلام کے صدقہ آپکوے بچے کو محفوظ رکھے گا۔

    Advertisement

    کوشش کرے کے بچے کو لنچ بکس کے عادت فی الوقت نا ڈالے، کیوںکہ بچے کا سکول میں دوپہر کا کھانا مناسب نہیں۔ اگر بچے کو لنچ بکس لے جانا مقصود ہی ہو، تو اس بات کو دھیان رکھے کہ اپکے بچے کو مناسب طریقے سے ہدایات دی جا چکی ہے کہ وہ اکیلا ہی کھانا کھائے اور ہاتھ دھوں کر کھائے۔

    سکول جانے سے پھلے بچے کو ماسک پہنا کے بیجھے، اور ایک اضافی ماسک بھی ساتھ بھیجے تاکہ ایک خراب ہونے کی صورت میں دوسرا استعمال کیا جاسکے۔
    اگر ممکن ہو تو بچوں کو سرجیکل گلوز یعنی دستانے پہنا کر بھیجے۔

    بچے کے ساتھ ہینڈ واش یا ہینڈ سینیٹائزر لازمی بھیجے۔
    بچے کو اس بات کی اچھے سے تلقین کرے کہ وہ کسی سے ہاتھ نا ملائے اور نا ہی گلے ملے۔

    Advertisement

    بچے کے ساتھ اسکی پانی والی بوتل بھیجے اور بچے کو یہ سمجائے کہ وہ اپنا پانی کسی کے ساتھ شیئر نا کرے۔
    بچے کو یہ طریقہ سکھائے کہ کھانستے اور چھینکتے وقت منہ پر رومال یا ٹشو رکھے۔

    والدین کو چاہئے کہ وہ اس بات کی بھی یقین دہانی کر لے کہ بچوں کے سکول میں کھیلنے کا میدان مکمل طور پر بند ہے۔
    یہ بات بھی والدین کو چیک کرنی چاہئے کے کلاس رومز میں بچے مناسب فاصلہ رکھ کر بیٹھتے ہے۔

    بچوں کو اس بات کی تلقین کرے کہ سکول میں وقفہ وقفہ سے ہاتھوں کو ضرور دھونا ہے۔ بچے کو یہ بات بھی سمجھائے کہ کتابوں یا کاپیوں کے صفحہ کو بدلنے کے لیے، زبان کے ساتھ انگلیاں نا لگائے۔

    Advertisement

    بچوں کی ذہنی طور پر ایسی تربیت کرے کہ بچے سکول سے گھبرائے نا بلکہ احتیاطی تدابیر پر عمل کرکے اپنی تعلیم کو یقینی بنائے۔

    اللہ ہم سب کا ہامی و ناصر ہوں۔ آمین

    Advertisement