عورت سے ہاتھ نہ ملانے پر جرمنی نے مسلمان ڈاکٹر سے ایسا سلوک کیا کہ دنیا بھر کے مسلمان غصے میں۔

عورت سے ہاتھ ملانے سے انکار کرنے پر مسلم مرد ڈاکٹر کی جرمنی کی شہریت مسترد کردی گئی۔

 

لبنان سے تعلق رکھنے والا 40 سالہ ڈاکٹر 2002 میں طب کی تعلیم حاصل کرنے جرمنی آیا تھا اور اب کلینک میں سینئر معالج کی حیثیت سے کام کر رہا تھا۔

Advertisement

 

جرمن اخبار ڈوئچے ویلے (ڈی ڈبلیو) کی خبر کے مطابق ، اس نے 2012 میں شہریت کے لئے درخواست دی اور پھر اچھے اسکور کے ساتھ امتحان میں پاس کیا۔ اس عمل میں اس نے شدت پسندی کی مذمت کرنے اور جرمنی کے آئین کے ساتھ وفاداری کرنے کا اظہار بھی کیا تھا۔

 

Advertisement

 

بہرحال ، جب اس نے 2015 کی ایک تقریب میں کسی خاتون اہلکار سے مصافحہ کرنے سے انکار کردیا تو اس کا سرٹیفکیٹ روک لیا گیا اور بالآخر اس کی درخواست کو بھی نامنظور کر دیا گیا۔

 

Advertisement

 

جرمنی کی ایک عدالت نے فیصلہ سنایا کہ مذہبی وجوہات کی بناء پر اگر کوئی مسلمان مرد کی عورت سے ہاتھ ملانے سے انکار کرے تو اس کی شہریت مسترد کردی جانی چاہئے۔

 

Advertisement

 

ڈاکٹر نے اصرار کیا کہ اس نے صرف ہاتھ ملانے سے انکار کیا تھا کیونکہ اس نے اپنی بیوی سے وعدہ کیا تھا کہ وہ کسی اور عورت کو ہاتھ نہیں لگائے گا ، اور اس کے مذہبی عقائد اسے ایسا کرنے سے منع کرتے ہیں۔

 

Advertisement

 

لبنانی ڈاکٹر نے عدالت سے رجوع کیا اور عدالت میں اپنا مقدمہ پیش کیا۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ جو بھی شخص جینڈر کی بناء پر مصافحہ کرنے سے انکار کیا تو اسے جرمنی کے آئین کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔

 

Advertisement

آؤٹ لیٹ نے بتایا کہ ڈاکٹر اب اس فیصلے کو وفاقی عدالت میں اپیل کر سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *