امریکی نو منتخب صدر جوبائیڈن آصف علی زرداری سے کب ملے تھے؟ اور انھیں کیا تحفہ دیا گیا۔

    لاہور (نیوز ڈسک) حال ہی میں امریکہ کے نو منتخب صدر جوبائیڈن نے ڈولنڈ ٹرمپ کے مقابلہ میں واضح اکثریت سے الیکیشن جیت لیا ہے۔ اور اس طراح وہ امریکہ کے نئے صدر بن گئے ہے۔

     

     

    Advertisement

    لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس سے پہلے جوبائیڈن پاکستان کب آئے تھے اور انھیں عزازی طور پر پاکستان کی طرف سے کیا تحفہ دیا گیا تھا؟

     

     

    Advertisement

    فروری 2008 میں، بائیڈن تین سینیٹروں کے وفد کے ساتھ 18 فروری کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کا مشاہدہ کرنے کی غرض سے پاکستان آیا تھا۔ اس وقت، بائیڈن امریکہ کی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے چیئرمین تھا۔

     

     

    Advertisement

    مشترکہ بیان میں، سینیٹرز نے انتخابات کو آزادانہ ہونے کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ بائیڈن نے پاکستان کے لئے امریکی پیکیج پر زور دیا، جو کہ فوجی امداد پر نہیں بلکہ معاشی امداد پر منحصر تھا۔

     

     

    Advertisement

    اکتوبر 2008 میں، پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے امریکی ڈیموکریٹک نائب صدر کے نامزد امیدوار جو بائیڈن اور ریپبلکن سینیٹر رچرڈ لوگر کو سرکاری اعزازات دینے کا اعلان کیا تھا۔ زرداری نے پاکستان کے مستقل تعاون کے اعتراف میں انھیں “ہلالِ پاکستان” (کریسنٹ آف پاکستان) سے نوازا تھا۔

     

     

    Advertisement

    بائیڈن اور لوگر نے جولائی 2008 میں دو طرفہ امریکی امدادی منصوبہ متعارف کرایا تھا، جس میں پاکستان میں معاشی ترقی کے لئے غیر فوجی اخراجات میں ہر سال 1.5 بلین ڈالر کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

     

     

    Advertisement

    لیکن ابھی تک اس امداد کا پتہ نہیں چل سکا آیا کہ یہ امداد ملنا شروع ہو گئی تھی؟ ابھی بھی مل رہی یا پھر ملنا بند ہو گئی ہے؟