مولانا اجمل قادری نے نواز شریف کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا بھانڈہ پھوڑ دیا۔ اسرائیلی میڈیا نے بھی زبان کھول دی

    مرکزی جمعیت علمائے اسلام کے سرپرست اعلیٰ مولانا اجمل قادری نے ہفتے کے روز اعتراف کیا کہ سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے سر پرست اعلی نواز شریف کے دور میں ایک وفد اسرائیل گیا تھا۔

    ہم نے اسرائیل کی وزارت خارجہ کے عہدیداروں اور اسرائیلی کابینہ کے ممبروں سے ملاقات کی تھی۔

    مولانا اجمل قادری نے کہا کہ اسرائیلی عہدیداروں نے ان کے اپنے ہوٹل میں ان کا دورہ کیا جہاں ان کی تجارت اور دیگر امور پر گہری گفتگو ہوئی اور کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان اسرائیل کے ساتھ سیاسی اور سفارتی تعلقات کو معمول پر لانے میں فلسطین کو درمیان میں نہ لائے۔

    Advertisement

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی مواصلات ڈاکٹر شہباز گل نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی کی بات ہے کہ نواز شریف اور ان کے مشیر اسرائیلیوں کے ساتھ بیک ڈور مذاکرات میں شامل تھے۔

    یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ پاکستانی وفد نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں دو بار تل ابیب کا دورہ کیا۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق، نواز شریف نے پاکستانی وفد کو دو بار اسرائیل بھیجا۔ ایک مذہبی وفد کی قیادت مولوی اجمل قادری کر رہے تھے۔

    Advertisement