واٹس ایپ کا راتوں رات ایسا کارنامہ، صارفین نے جب صبح اٹھ کر دیکھا تو۔۔

واٹس ایپ نے راتوں رات نئی فیچر متعارف کروا دی۔

 

عام طور پر لوگ صبح اٹھتے ہی، موبائل کا استعمال کرتے ہوئے، سب سے پہلے سوشل میڈیا سے متعلقہ ایپز کو کھولتے ہیں، جیسا کہ انسٹاگرام، فیس بک اور واٹس ایپ وغیرہ۔۔

Advertisement

 

مورخہ 28 جنوری 2021 کی صبح کو جب واٹس ایپ استعمال کرنے والے صارفین نے واٹس ایپ کھولا تو اسٹیٹس کالم میں ایسی حیران کن چیز دیکھی کہ دیکھتے ہی رہ گئے۔

 

Advertisement

جی ہاں! یہ آپ کے ساتھ بھی ہوا ہوگا یا پھر ہو جائے گا کہ جب آپ واٹس ایپ اسٹیٹس دیکھنے لگے ہونگے تو آپ کے سامنے سب سے پہلے واٹس ایپ کے نام سے اسٹیٹیس نظر آیا ہوگا۔ جو کہ واٹس ایپ کہ نئی حیران کن فیچر ہے۔

 

واٹس ایپ نے اسٹیٹس پر چار تصاویر لگائی تھی، جس میں مختلف اطلاعات دی گئی تھی، جسے ہی آپ اسٹیٹس دیکھے گے، اسی وقت اسٹیٹس ختم ہو جائیگا۔

Advertisement

 

پہلی تصویر میں بتایا گیا کہ واٹس ایپ اب اسٹیٹس پر بھی آگئی ہے اور آپ کو نئی خصوصیات کے بارے میں آگاہ اس کے ذریعے کیا کرے گی۔

 

Advertisement
واٹس ایپ کا پہلا اسٹیٹس

 

دوسری تصویر میں انہوں نے بہت دلچسپ انداز میں کہاں کہ وہ آپ کی پرائیویسی کی مکمل طور پر حفاظت کرتے ہے۔

 

Advertisement
واٹس ایپ کا دوسرا اسٹیٹس

 

تسیری تصویر میں واٹس ایپ نے وضاحت کی کہ وہ صارفین کی ذاتی بات چیت کو نا تو سنتی ہے اور نا ہی دیکھتی ہے۔

 

Advertisement
واٹس ایپ کا تیسرا اسٹیٹس

 

چوتھی تصویر میں کہا گیا کہ مزید معلومات کے لئے ان کے ساتھ رابطہ میں رہے۔

 

Advertisement
واٹس ایپ کا چوتھا اسٹیٹس

 

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ واٹس ایپ کی یہ پیش رفت اس لئے سامنے آئی کہ گزشتہ دنوں واٹس ایپ کی پالیسی کے بارے میں ہونے والی بحث نے واٹس کی عزت اور ساکھ کے بارے میں مختلف سوال کھڑے کئے، جس کے بعد واٹس ایپ نے اپنی پالیسی تو وقتی طور پر واپس لے لی مگر واٹس ایپ کے مقابلے میں مختلف ایسی کمپنیاں میدان میں آگئی اور اس ساتھ ہی واٹس ایپ کے بارے میں مختلف افواہیں اور قیاس آرائیوں نے بھی جنم لیا۔

 

Advertisement

 

اسی وجہ سے واٹس ایپ نے اپنے صارفین کو اعتماد میں لینے کے لئے یہ فیچر متعارف کروائی، جس سے وہ اپنے صارفین کے ساتھ براہ راست رابطہ کر سکے گے۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *