وکلاء کے گرد گھیرہ تنگ، چیف جسٹس آف پاکستان بھی میدان میں آگئے، وکلاء میں اضطراب

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پیر کو چیف جسٹس آف پاکستان (سی جے پی) جسٹس گلزار احمد سے ملاقات کی جس میں وکلاء کے احتجاج کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیدا گمبھیر صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

     

    چیف جسٹس نے اسلام آباد ہائیکورٹ (آئی ایچ سی) کی عمارت پر چڑھائی کرنے والے، پولیس اہلکاروں، عملے اور صحافیوں کو نقصان پہنچانے والے وکلا کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت کی۔

    Advertisement

     

    چیف جسٹس نے کہا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔

     

    Advertisement

    اسلام آباد کی ضلعی اور سیشن عدالت میں غیر قانونی چیمبرز کو مٹانے کے بعد وکلاء غصے میں آگئے۔ غصے میں وکلاء نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے چیمبر میں داخل ہوکر اثاثوں کا کافی نقصان کیا۔

     

    عمارت کے باہر احتجاج کرنے والے وکلا کی ایک بڑی تعداد نے ضلعی انتظامیہ اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے نقصان پہنچایا۔ وکلا نے واقعے کی کوریج کو روکنے کے لئے رپورٹرز اور ان کی ٹیم کو بھی نقصان پہنچایا۔

    Advertisement

     

    وکلاء کی طرف سے نقصان پہنچائے جانے کے بعد متعدد سیکیورٹی اہلکاروں اور صحافیوں کی حالت خراب ہو گئی۔ بےحال ہونے والے افراد کو جائے وقوع پر موجود امدادی اہلکاروں نے ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔

     

    Advertisement

    پولیس دستوں کی ایک بھاری نفری ہائی کورٹ کی عمارت پہنچ گئی اور داخلی اور خارجی راستوں کو بند کردیا۔

     

    Advertisement