بیشک! کلونجی میں تقریباً ہر بیماری کی شفاء ہے، جانئے کلونجی کے ایسے انوکھے فوائد کہ کبھی استعمال کرنا نہ بھولیں گے

آج ہم بات کریں گے کلونجی کے بارے میں؛
کلونجی قوت معدافت کو کیسے بہتر کرتی ہے اس میں ایسی کونسی خصوصیات اوراجزاء شامل ہیں جو قوت معدافت کو مضبوط بنانے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔

اس کو کیسے ، کس طرح اور کتنی مقدارمیں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

صدیوں پہلے ابنِ سینا نے اپنی کتاب میں لکھا کہ کلونجی کو انہوں نے بیماروں کو صحت یاب کرنے کے لئے استعمال کیا۔انھوں نے یہ بھی لکھا کہ یہ انسان کے اندر طاقت کو بڑھاتی ہے۔

Advertisement

 

حدیث کے مطابق” کلونجی میں م  وت کے علاوہ ہر مرض کے لئے شفاء ہے”۔

 

Advertisement

کلونجی میں100 سے زائد ایسےمختلف اجزاء شامل ہیں جو انسان کی صحت کے لئے ضروری ہیں۔ کلونجی امراض کلب، کینسر تمام افراد کے لئے قابل استعمال ہے۔
کلونجی میں تین ایسے اجزاء موجود ہیں جو کہ بالخصوص قوت معدافت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جیسے کہ

 

anti-inflammatory سے مراد جسمانی سوزش: کلونجی کے استعمال سے جسم کی سوزش کم کر سکتے ہیں۔

Advertisement

 

antioxidant سے مراد اگر جسم کے اندر کوئی زہریلا مواد (جو کہ کسی بھی بیماری حتیٰ کہ کینسر کا باعث ہو) موجود ہے تو یہ اسکو اپنے ساتھ بائنڈ کر کے جسم سے نکال دیتی ہے

 

Advertisement

antibacterial جیسے کہ جسم کے اندر کوئی بیکٹریا موجود ہو تو یہ اس سے لڑنے میں مددگار ثابت ہو گی۔
ایک ریسرچ کے مطابق کلونجی کھانسی اور دمہ کے مریضوں کے لئے فائدہ مند ہے۔

 

کرونا وائرس ایک وائرس ہے کلونجی اس کے خلاف مدد گار ثابت نہیں ہو سکتی۔ البتہ اس کے خلاف جسم کی قوت معدافت کو بڑھا سکتی ہے۔

Advertisement

 

اسکے علاوہ کلونجی ہاضمے کے عمل کو تیز کرتی ہے۔ جن کو گیس یا قبض کا مسئلہ ہوان کے لئے کلونجی کا استعمال فائدہ مند ثابت ہو گا۔

 

Advertisement

جن افراد کو انرجی لیول low رہتا ہے جنکو ہر وقت تھکاوٹ محسوس ہو یا چکر آتے ہوں تو وہ بھی کلونجی کا استعمال کر سکتے ہیں۔ اسکے علاوہ کھانسی اور زکام کی شدت میں کمی لانے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔

 

استعمال کا طریقہ:

Advertisement

اسکے استعمال کے بہت سے طریقے ہیں

1. سات دانے صبح اُٹھ کر پانی کے ساتھ لیے جا سکتے ہیں۔

2. کلونجی کوموٹا پیس کر مخلتف شیکس میں استعمال کرسکتے ہیں۔

Advertisement

3. سالن یا سالاد پر ڈال کر استعمال کر سکتے ہیں۔

4. آدھا چمچ کلونجی اور حسب ذائقہ شہد ملا کراس کا قہوہ بنایا جا سکتا ہے۔

5. ناشتہ، کھانا، کسی بھی چیز پر اس کا پاؤڈر ڈال کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

Advertisement

6. دودھ میں بھی اسکو شامل کر کے پیا جا سکتا ہے۔

7. سالن بناتے وقت سالن میں اس کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

 

Advertisement

کم از کم کلونجی کے سات 7 دانے اور زیادہ سے زیادہ ایک کھانےکا چمچ دن میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کچھ لوگوں کی ریسرچ کے مطابق ایک دن میں 2 کھانے کے چمچ تک بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

 

کلونجی نہ صرف شوگر سے مزاحمت میں یا شوگر لیول مناسب رکھنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے بلکہ بلڈ پریشیر کو مناسب رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔

Advertisement

 

اس کے اندر سوڈیم، آئرن، پوٹاشیم اور کیلشیم کی اچھی مقدار شامل ہوتی ہے اگر کسی کو آئرن کی کمی ہے یا کسی کی ہڈیوں میں بھربھرا پن ہے تو وہ اس کا استعمال کر سکتا ہے

 

Advertisement

کلونجی میں موجود اجزاء جیسے کے منرل، وٹامنز اس کو ایک سوپر فوڈ بنا دیتے ہیں۔ جو کہ کسی بھی بیماری کے خلاف مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

 

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *