بھارت سمیت پورے خطے میں پاکستان کے چرچے، پاکستان پھر پہلے نمبر پر آگیا۔۔

    پاکستان، سڑکوں اور موٹر ویز نیٹ ورک کی نگرانی کے لئے ڈرون ٹکنالوجی کا استعمال کرنے والا خطے کا پہلا ملک بننے جا رہا ہے۔

     

    نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹرویز پولیس کے اہم ذرائع کے مطابق یہ نظام چند ہفتوں میں نافذ العمل ہوگا۔

    Advertisement

     

    یہ نظام سڑکوں پر چوبیس گھنٹے کی نقل و حرکت کا ریکارڈ فراہم کرے گا۔ اس سے نہ صرف موٹرویز اور شاہراہوں کے اطراف میں ٹریفک کے حجم کو کنٹرول اور سنبھالنے میں مدد ملے گی بلکہ برے واقعات کو بروقت روکنے میں مدد ملے گی۔

     

    Advertisement

    ڈرونز کے ذریعہ جمع کی گئی معلومات غلط لوگوں کو پکڑنے میں استعمال کی جاسکتی ہیں۔ ڈرون کی ٹکنالوجی کا استعمال موٹر ویز کے کچھ مقامات پر اس مہینے کے آخر میں شروع کر دیا جائے گا۔

     

    اس منصوبے پر جمعہ کے روز نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹرویز پولیس (این ایچ ایم پی) کے صدر دفتر میں انسپکٹر جنرل ڈاکٹر سید کلیم امام کی زیر صدارت ورچوئل کانفرنس کے ذریعہ ملک بھر سے فورس کے افسران شریک ہوئے۔

    Advertisement

     

    پانچ سالہ منصوبہ:
    اجلاس میں آئندہ تقاضوں کی تکمیل کے پانچ سالہ منصوبے اور موٹروے پولیس کی جدید کاری کے مطالبات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

     

    Advertisement

    تفصیلات کے مطابق یہ منصوبہ دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح سڑکوں پر نقل و حرکت میں رونما ہونے والے تمام نئے رجحانات کی نگرانی کرے گا جس میں پاکستان کو ایک ماڈل روڈ نیٹ ورک ملک بننے میں مدد ملے گی۔

     

    رفتار کی حد:
    موجودہ رفتار کی حد کو کچھ سیکٹرز میں بڑھایا جاسکتا ہے جبکہ کچھ حصوں میں رفتار کی حد میں کمی بھی لائی جاسکتی ہے۔

    Advertisement

     

    اس منصوبے کا بنیادی موضوع پریشانی سے پاک، تیز رفتار لیکن محفوظ ٹریفک کی نقل و حرکت کو یقینی بنانا ہے۔

     

    Advertisement

    ایک ایسا سسٹم بھی متعارف کرایا جارہا ہے جس میں صرف ایسی گاڑیوں کو سڑکوں پر چلنے کی اجازت ہو گی جو مکینیکلی اور نقل و حرکت کے لئے فٹ ہیں۔ ایسی کوئی بھی گاڑی جو موٹر ویز اور شاہراہوں پر سفر کرنے کے لئے موزوں نہیں ہے اسے سڑکوں پر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

     

    Advertisement