لڑکی کے گھر والوں نے غم سے بھری کہانی سامنے رکھ دی

لاہور میں کچھ دن پہلے ایک لڑکی (مریم) جو کہ بے جان حالت ہسپتال لائی گئی تھی۔ جب اس سلسلے میں معلومات حاصل کی گئی تو لڑکی کو لے کر آنے والے شخص(اُسامہ) سامنے آیا اور اس کو پکڑ کر پوچھ گُچھ کی گئی تو اُس نے بتایا کہ اُس کے لڑکی سے نامناسب تعلقات تھے۔ مزید یہ کہ جب وہ لڑکی کو ہسپتال لے کر آیا تو وہ زندہ تھی۔

 

 

Advertisement

اس سلسلے میں لڑکی کے گھر والوں نے بتایا کہ یورنیورسٹی والوں کے کال کرنے پر مریم لاہور اپنی ڈگری کے حصول کے لئے اور اپنی بقایا فیس ادا کرنے گئی تھی۔ اُس کے بعد انہیں ایک نامعلوم نمبر سے فون آیا کہ مریم کی طبعیت بہت زیادہ خراب ہے اور وہ ہسپتال میں داخل ہے کہ آپ لوگ جلدی آئیں۔ جب وہ ہسپتال پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ ایک لڑکی بے جان حالت میں ہسپتال لائی گئی تھی جو اس وقت سرد خانے میں موجود ہے اور شناخت کرنے پر وہ مریم ہی تھی۔

 

 

Advertisement

لڑکی کے گھر والوں کے مطابق مریم دوپہر کو لاہور جانے کے لئے گھر سے نکلی، مریم کے پاس1 لاکھ بیس ہزار کی رقم، ڈاکومنٹس اور موبائل فون تھا ۔رات کو 8 بجے تک اُس کا فون بند ہو چکا تھا۔ وہ لاہور میں اپنے ماموں کے ہاں نہیں پہنچی اس سے اگلے دن ہسپتال سے اُسکی بوڈی ملی۔ مریم کی بوڈی پر نشانات تھے۔ اس کے سر کے پچھلے حصے پر کوئی زوردار چیز لگی تھی۔ اُس کا بائیاں کان بھی سُوجا ہوا تھا۔

 

 

Advertisement

مریم کے بھائی کے مطابق اُسامہ جو کہ دعویٰ کرتا ہے کہ اُس کے لڑکی کے ساتھ گزشتہ 5 سالوں سے تعلقات تھے اور مریم اُسکی ٹیچر تھی؛ سب بے بنیاد ہیں۔ کیونکہ مریم نے دو ماہ قبل گرلز کالج آف گجرات میں بطور استانی نوکری شروع کی تھی، اُس سے پہلے اُس نے کبھی کسی کو ٹیویشن بھی نہیں دی۔ مزید یہ کہ ہم اُسکی کال ہسٹری بھی دیکھ لیں تو بھی ایسا کوئی نمبر نہیں ملا جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ اس کی کسی سے اس طرح کی دوستی رہی ہے۔ اُسامہ نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر مریم کے ساتھ ایسا کیا۔ اُسامہ نے جو بھی بیان دیئے ہیں وہ سب غلط ہیں۔

 

 

Advertisement

اُسامہ کے مطابق مریم کی والدہ کو اُسکے اور مریم کے تعلقات کے متعلق سب کچھ معلوم تھا اور مریم نے ہی اسکو بتایا کہ وہ حاملہ ہے۔ اُسامہ کا مریم کے گھر بھی آنا جانا تھا۔ جبکہ مریم کی والدہ نے ان تمام باتوں کی تردید کی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ وہ یہ سب باتیں اپنے آپ کو بچانے کے لئے کر رہا ہے۔

 

 

Advertisement

مریم کی والدہ نے کہا کہ ماں سے بڑھ کر اولاد کا کوئی سگا نہیں ہوتا۔ اگر مریم کو کوئی مسئلہ تھا وہ اپنی ماں کو بتاتی۔ مریم کو غُسل دینے سے گریووویارڈ تک اُس کے مخصوص کپڑے تین بار بدلنے پڑے۔ برف بھی رکھی لیکن کسی چیز کی وجہ سے بھی بہاؤ میں کمی نہیں ہو رہی تھی ۔ پھر ہم نے بحالتِ مجبوری اُسکو ایسے ہی گریووویارڈ پہنچا دیا۔ مریم کی والدہ نے حکومت سے صرف انصاف کی اپیل کی ہے اور اُسامہ کو جھوٹا قرار دیا۔

 

 

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *