جون 1 2 0 2 میں ایسا کیا ہونے جارہا ہے کہ دنیا کو بدل کر رکھ دیا جائیگا، بل گیٹس ایک اور کارنامہ کرنے کے لیے تیار

    بل گیٹس کا شمار دنیا کی مشہور اور امیر ترین شخصیات میں ہوتا ہے جو کسی نا کسی انوکھے کام کرنے میں مصروف رہتے ہیں آج کل بل گیٹس نے ایک عجیب تجربہ کرنے کی ہامی بھر لی ہے، یہ تجربہ ہاورڈ یورنیورسٹی کے سائنسدان کر رہے ہیں اس کی مکمل فنڈنگ بل گیٹس کر رہے ہیں اور اس تجربے کو دو مین اخبارت میں شائع کیا گیا ہے۔

     

    جس کی تفصیل کے مطابق یہ زمین کو ٹھنڈا کرنے جارہے ہیں، ان کا مقصد سورج کو ڈھانپنا ہے یا کچھ ایسا کرنا جس سے زمین ٹھنڈی رہے۔
    جیسے بادلوں کی آمدورفت سے درجہ حرارت پر فرق پڑتا ہے۔ سردی اور گرمی کے موسم میں سورج کی ڈائریکشن پر فرق پڑتا ہے۔ جس کی وجہ سے زمین کے کچھ حصے پر سردی ہوتی ہیں اور کچھ حصے پر گرمی۔ تو زمین پر سورج کی وجہ سے حدت پیدا ہوتی ہے جو کہ گرمی کا باعث بنتی ہے۔

    Advertisement

     

    زمین کا درجہ حرارت لگاتار بڑھ رہا ہے۔ بل گیٹس نے اپنے سائنسدانوں کے ساتھ مل کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ زمین کا درجہ حرارت چند صدیوں پیچھے لے جایا جائے جب گلوبل وارمنگ کم تھی اور زمین قدرے ٹھنڈی تھی۔

     

    Advertisement

    درجہ حرارت کو کم کرنے کے لئے وہ جو تجربہ کرنے جا رہے ہیں اس کا نام stratospheric control disturbance experiment ہے۔ اس طریقے میں یہ سورج کی حدت اور گرمی جو زمین کی طرف سے آرہی ہے تو اسکا رُخ ایک خاص سائنسی طریقے سے موڑیں گےاور اس کو ریفلیکٹ کریں گے۔ جیسے کہ روشنی جو ہے وہ شیشے یا کسی خاص مواد سے ٹکر ا کر واپس مُڑ جاتی ہے اسی طرح وہ زمین کے ارد گرد ایسی کوئی چیز بنانے جارہے ہیں جس سے سورج کی شعاعیں ساری تو نہیں لیکن کسی حد تک واپس لوٹ جائیں اور اسکی گرمی زمین تک نہیں پہنچے گی یا اس میں کا فی حد تک کمی ہو جائے گی۔

     

    اس کے لئے یہ کیلشیم کاربونیٹ کا استعمال کریں گے، جس کا سائنسی نام caco3 ہے اس کو زمین سے بلندی پر لے جا کر چھوڑ دیں گے۔ پھر اس کی ایک تہہ زمین کے گرد بنائیں گے جس پر سورج کی روشنی پڑے گی تو روشنی کا ایک بڑا حصہ اس سے ٹکرا کر واپس لوٹ جائے گا جس کی وجہ سے زمین میں روشنی بھی کم آئے گی اور گرمی بھی۔

    Advertisement

     

    اس تجربے کے لئے انہوں نے جس جگہ کو چُنا ہے وہ سویڈن کا علاقہ کیرونا ہے جہا ں جون 2021 کو اس کا تجربہ کیا جائے گا۔ وہاں سویڈن کی سویڈیش سپیس کارپوریشن ہے وہ ان کی مدد کرے گی وہاں یہ ایک غبارے میں یہ گیسز بھریں گے۔ اور اس کوزمین سے 20 کلو میٹر اوپر تک لے جا کر اور ایک کلومیٹر ریڈیس کے علاقے میں یہ اس کو چھوڑیں گے۔ زمین سے 18 کلومیٹر اوپر بادل ہیں تو یہ اس گیس کو بادلوں سے 2 کلو میٹر اوپر لے جا کر چھوڑیں گےتاکہ یہ مواد بارش سے بہہ نہ جائے۔

     

    Advertisement

    سب سے پہلے اس گیس کو ہوا میں چھوڑ کر یہ تجربہ کیا جائے گا کہ اس سے ہمارے ٹیلی کمیونکیشن کے نظام پر اثر تو نہیں پڑتا، یا سیٹٹلائٹ نظام تو متاثر نہ ہوگا۔ اس کے علاوہ سورج کی کتنی روشنی زمین تک آرہی ہے اور کتنی رُک رہی ہے ایسے تجربات جون جولائی میں ہونگے۔ اس کا نتیجہ آنے پر یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ اس کو بڑے پیمانے پر کیا جائے یا نہیں۔

     

    Advertisement