زلزلے نا آئیں تو پھر کیا ہو؟ بہن اور بھائی کا ایسا بہودہ واقع کہ آپ بھی جان کر توبہ توبہ کر اٹھیں گے۔

سرگودھا کےگاؤں بہل وال کے علاقہ لوکڑی میں چند روز قبل یہ عجیب واقع عام ہوا جو کہ شریعت اور قانون کے خلاف ہے کہ سگے بہن بھائی نے آپس میں شادی کر لی۔

 

لڑکی جس کی عمر 17/18 سال نام زہرہ اور لڑکا جس کی عمر 18/20 سال نام سکندر ہے۔ ان دونوں کی مائیں الگ ہیں لیکن ان کا والد ایک ہی ہے۔ جسکا نام صوبہ خان ہے صوبہ خان نے تین شادیاں کی ہوئی تھی۔ صوبہ خان کے مطابق اسکی سکندر کی ماں سے شادی 1992 میں ہوئی جو کہ وٹہ سٹہ کی رسم کے تحت ہوئی اوراسی رسم کی وجہ سےطلاق ہو گئی۔

Advertisement

 

1996 میں اس کی شادی زہرہ کی ماں سے ہوئی۔صوبہ خان نے بتایا کہ اسکی پہلی طلاق شدہ بیوی نے یہ سب بدلہ لینے کے لئے کیا ہے میرے ہی بیٹے کا نکاح میری دوسری بیوی سے ہوئی میری ہی بیٹی سے کروادیا اور ساتھ ہی اس نے لڑکا اور لڑکی کو مالی امداد بھی فراہم کی۔

 

Advertisement

صوبہ خان کو جب لڑکا اور لڑکی کے ناجائز تعلقات پر شک ہوا تو اس کے سامنے حقیقت کھلی کہ ان کا تو نکاح ہو چکا ہے۔ اس سارے گھناؤنے کام میں 5 لوگ ملوث تھے۔

 

صوبہ خان کی تیسری بیوی کے مطابق ان کو بچوں کے متعلق کچھ معلوم نہ تھا۔ زہرہ ڈی ایس پی کے گھر کام کرتی تھی وہاں سے گھر آئی تو اس کی پھپھو کی بیٹی اُس کو عید کے لئے گاؤں لے گئی۔سکندر جو کہ پنڈی میں مصالحہ فیکٹری میں کام کرتا ہے وہاں اس کا پتہ کروایا تو وہاں سے اسکے دوست نے نکاح نامہ کی تصویر بھیجی اور بتایا کہ سرگودھا کی عدالت میں نکاح ہوا ہے۔

Advertisement

 

صوبہ خان نے بتایا کہ نکاح نامے کی اس تصویر کو دکھا کر ہم نے FIR درج کروانے کے لئے عدالت ٹالی چوک میں درخواست دائر کی۔ تو وہاں کلرک نے اس درخواست پر کہا کہ ایسا ممکن نہیں ہماری شریعت اجازت نہیں دیتی کہ بہن بھائیوں نے نکاح کیا ہو۔ صوبہ خان نے بتایا کہ 7 مہینوں سے انصاف کا امیدوار ہے لیکن اس کی سنوائی نہیں ہو رہی۔ وہ ایک تھانے میں جاتا ہے تو اس بتایا جاتا ہے کہ یہ علاقہ اور کیس دوسرے تھانے کا ہے دوسرے تھانے والے بھی اس بات کو نظر انداز کر رہے ہیں چاہ میراں کے افسر کی نیک دلی کی وجہ سے FIR درج ہوئی ہے اور اب ہم قانونی کاروائی کے انتظار میں ہیں کہ وہ اس مکروہ اور گھناؤنے کام کے خلاف کاروائی کر کے قصورواروں کو سزا دیں۔

 

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *