انار کھانے کے فائدے، دن کے کس وقت انار کھانا چاہیے کہ آپ کے جسم میں۔۔

انار ایک مشہور اور قدیم پھل ہے۔ انار کو کھانے یا اس کے چھلکوں کوجسم کے بیرونی حصوں پر لگانے سے ہمیں بہت سارے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ انار کا رَس ہماری صحت کے لئے بہت زیادہ مفید ہے کیونکہ انار کے رَس میں بہت زیادہ وٹامنز پائے جاتے ہیں۔ کبھی کبھی ہم انار کے دانوں کو چبا کر پھینک دیتے ہیں اور کبھی ہم اس کے چھلکےکو کوڑے دان میں پھینک دیتے ہیں تو یہ ہماری سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔

 

انار کے بیچوں کو دھوپ میں سوکھا کر ان سے بہت سارے فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں جو ہم انسانوں کے لئے بہت ہی زیادہ فائدہ مند ہیں۔ اگر ہم انار کے بیچوں کے سفوف میں پانی ملاکر کلیاں کریں گے تویہ ایک بہت اچھے ماؤتھ واش کی طرح کام کرتا ہے کیونکہ اس میں جراثیموں کو ختم کرنے کی بہت صلاحیت ہوتی ہے جو ہمارے منہ کے تمام جراثیموں کو ختم کردیتا ہے۔ اگر ہمارے حلق میں ورم ہو تو اس پانی سے غرارے کرنے سے ہمارا گلا بلکل ٹھیک ہو جائے گا۔ اگر ہم انار کے چھلکوں کو خشک کر لیں اور پھر ان کا سفوف بنا لیں اور ساتھ ہی اخروٹ کے چھلکوں کو پیس کر ان کا سفوف تیار کرکے انار کے سفوف کے ساتھ ملالیں تو یہ ایک بہترین قسم کا منجن تیار تیار ہو جاتا ہے۔

Advertisement

 

جس کو ہم اپنے دانتوں پہ لگا سکتے ہیں اس سے ہمارے دانت مضبوط ہونگے اور دانتوں پہ جمی میل کو بھی صاف کردےگا اور نہ صرف یہ کہ اس سے ہمارے منہ سے آنے والی بد بو بھی ختم ہوجائے گی بلکہ اگر کوئی شخص اپنے بالوں کو گرنے کی وجہ سے بہت پریشان ہے تو پھر وہ اسی سفوف میں تھوڑا سا پانی ملا کر اور ساتھ دہی، ایک انڈا یا زیتون کا تیل ملا کر ایک لگدی بنالیں اور اسے دس سے پندرہ منٹ تک بالوں میں لگا کر رکھیں اور پھر دھولیں اس سے بال گرنا بند ہوجائیں گے۔

 

Advertisement

اگر بالوں کو چمکدار اور نرم بنانا ہے تو اسی لگدی میں مہندی ملا کر لگانے سے بال نرم و ملائم ہو جائیں گے لیکن اگر ہمارے بال بھورے یا سفید ہیں تو پھر ہرگز اس سفوف کا استعمال نہ کریں۔ اگر ہمارے چہرے پر مہاسے اور داغ دھبے ہیں تو اس سفوف میں شہد اور انڈے کی سفیدی ملا کر لگانے سے چہرہ تروتازہ ہو جائے گا اور مہاسے بھی ختم ہوجائیں گے۔ سب سے کارآمد کام یہ ہے کہ ہم انار کو کھائیں یا پھر اس کا رَس نکال کر پئیں اس سے ہماری مجموعی صحت بھی اچھی رہے گی اور ہماری یاداشت کو تقویت بخشے گی ۔

 

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *