قومی اسمبلی نے بچوں کے لیے بڑی خوشخبری سُنا دی، طلباء کے مشکل دن ختم۔۔

    قومی اسمبلی نے تمام تعلیمی اداروں میں بچوں کو فیزیکل پنشمنٹ دینے کے خلاف منگل کو ایک بل منظور کیا۔

     

    اس بل کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ایم این اے مہناز اکبر عزیز نے منتقل کیا تھا۔ اس بل کو اکثریت سے منظور کیا گیا کیونکہ بینچوں میں سے کسی نے بھی اس بل کی مخالفت نہیں کی۔

    Advertisement

     

    اس بل کے تحت اسلام آباد کے تمام تعلیمی اداروں میں بچوں کے خلاف ہر قسم کی فیزیکل پنشمنٹ سے منع کیا گیا ہے۔

     

    Advertisement

    گلوکار شہزاد رائے نے منگل کو قومی اسمبلی کے ایک ’تاریخی‘ انسداد جسمانی سزا سے متعلق بل کی منظوری پر خوشی منائی جس میں تعلیمی اداروں اور والدین کو بچوں کو کسی قسم کی تکلیف دینے سے منع کیا گیا ہے۔

     

    انہوں نے برسر اقتدار حکومت کے کردار کو سراہا کیونکہ وفاقی انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے اپوزیشن کی جماعتوں کی جانب سے پیش کیے جانے کے باوجود اس بل کی حمایت کی ہے۔

    Advertisement

     

    انہوں نے آج کے بل کی منظوری کے پس منظر میں کہا کہ سنہ 2019 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں جسٹس اطہر من اللہ نے نوٹ کیا کہ اس معاملے پر قانون سازی کا انتظار ہے۔

     

    Advertisement

     

    گذشتہ سال ، اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے علاقے میں تعلیمی اداروں میں جسمانی سزا پر مکمل پابندی عائد کرنے کا حکم دیتے ہوئے پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کے سیکشن 89 کو معطل کردیا تھا

     

    Advertisement

     

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے تھے کہ قومی اسمبلی کو بھی اسکول میں طلباء کو جسمانی سزا دینے پر پابندی لگانے والا ایسا بل پاس کرنا چاہئے۔ عوامی مفاد میں درخواست کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ، انہوں نے ہوم، قانون، تعلیم، انسانی حقوق کی وزارتوں اور آئی جی پی اسلام آباد کے سیکرٹریوں کو نوٹسز جاری کردیئے۔

     

    Advertisement