ہرن کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟ اسلامی نقطہ نظر جانئے

کچھ بکریاں ساؤتھ افریقہ میں فارم ہاؤس میں اس طرح پالی گئی ہیں کہ ان کی ماں جنگلی ہے اور باپ بکرا ہے۔

 

 

Advertisement

تو ایسی صورت میں ان کی قربانی کے متعلق احکامات ہیں کہ ہرن چونکہ ایک جنگلی جانور ہے تو اس کی قربانی نہیں ہوسکتی۔(بہار شریعت ، جلد 3 صفحہ نمبر 140) وحشی جانور جیسے کہ نیل گائے اور ہرن وغیرہ کی قربانی جائز نہیں۔ تو ان سے ہوئے بچے کی قربانی بھی جائز نہیں ہوگی۔

 

 

Advertisement

کیونکہ شریعت میں بچے کو ماں کے اعتبار سے دیکھا جاتا ہے۔ خواہ انسان ہو یا جانور۔ تو ایسی صورت میں جب کہ ماں جنگلی یعنی ہرنی اور باپ بکرا ہو تو ایسے بچے کی قربانی نہیں ہو سکتی، لیکن اگر ماں بکری اور باپ جنگلی ہے تو پھر بچے کی قربانی جائز ہو گی۔

 

 

Advertisement

اگر عام طور پر ایسا بچہ جس کی ماں ہرن اور باپ بکرا ہو تو اس کو کھایا جاسکتا ہے ۔ ہرن کا گوشت چونکہ اسلام میں ہلال ہے اس لئے اس کو ویسے کھایا جا سکتا ہے، پر اس کو قربانی کی نیت سے لا کر اس کی دیکھ بھال کرنا اور اسکو قربان کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ بہت سے فقہاء نے اس سے اتفاق کیا ہے۔

 

 

Advertisement

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *