Headlines

    “پولیس گردی بند کرو” اساتذہ کا احتجاج طول پکڑ گیا، حکومت سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔

    اعتماد نیوز: مورخہ 25 مارچ 2021 کو سماجی رابطہ کی ویب سائٹ پر ایک ٹرینڈ سب سے اوپر چل رہا تھا، جس کا عنوان تھا کہ پولیس گردی بند کرو۔

     

     

    Advertisement

    اس رجحان کا معائنہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اساتذہ اکرام اور ان سے منسلک مختلف عہدیداران دراصل اپنے حقوق کے لئے در بدر گھوم رہے ہیں اور آخر کار انہوں نے درھرنا اور احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

     

     

    Advertisement

    اسی تناظر میں ایپکا کی یونین بھی سراپا احتجاج ہے کیونکہ وہ حکومت سے الاؤنس مانگ رہے ہیں جو وفاق نے اپنے ملازمین کو دیا ہے، جس سے بنیادی تنخواہ کا 25 فصید الاؤنس دیا جائے گا۔

     

     

    Advertisement

    اس طرح لوگ پنجاب سول سیکریٹریٹ کے باہر پچھلے کچھ دنوں سے دھرنا دے کر بیٹھے تھے تاکہ وہ اپنے حقوق حاصل کر سکے مگر حکومت نے صاف انکار کر دیا ہے کہ وہ اس حالت میں نہیں ہے کہ اس وقت تںخواہوں میں اضافہ کیا جائے بلکہ وہ آنے والے بجٹ میں اس اضافہ کے بارے میں سوچینگے۔

     

     

    Advertisement

    دوسری طرف اساتذہ اور اے ای اوز کا مطالبہ ہے کہ ان کو فوری طور پر ریگولر کیا جائے، جس پر حکومت کی طرف سے واضح طور پر کوئی حکم نامہ نہیں جاری نہیں کیا جارہا۔

     

     

    Advertisement

    تاہم حکومت نے پولیس کا استعمال کرتے ہوئے مظاہرین تتر بتر کیا، جس کے بعد، سماجی رابطہ کی ویب سائٹ پر یہ مقولہ عام چل رہا ہے کہ پولیس گردی نہیں چلی گی۔

     

     

    Advertisement

    حکومت کو چاہئے کہ وہ اساتذہ اکرام جو کہ قوم کے معمار ہوتے ہیں ان کے ساتھ خوش اسلوبی سے پیش آنا چاہئے اور مطالبوں کو احسن طریقے سے حل کرنا چاہئے بجائے اس کے انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح روندا جائے۔

     

     

    Advertisement