Headlines

    جب ملاح نے حضرت مالک بن دینار کو پیسوں کی وجہ سے پیٹا تو پھر اللہ کی رحمت نے بھی جوش کھایا اور وہ کشتی کنار کے پاس گئے اور مچھلیوں نے۔۔۔

    پیر محمد عبد الوحید رضوی نے حضرت مالک بن دینار کا ایک قصہ بیان کیا: کہ حضرت مالک کو بن دینار کیوں کہا جاتا ہے۔

     

    آپ اپنے گھر سے نکلے تو جیب میں پیسے نہ تھے ۔ آپ نے نہر کے پار جانا تھا تو کشتی والے سے پوچھ کر کشتی میں بیٹھ گئے۔ تو جیسے ان کی عادت ہوتی ہے انہوں نے اسی طرح کہہ کر بیٹھا دیا کشتی میں۔

    Advertisement

     

     

    آپ بیٹھ گئی ایک کونے میں۔ دوسرے لوگ بھی بیٹھ گئے۔ تو جو دوسرے لوگ بیٹھے ہوئے تھے ان سب نے اپنا اپنا معاوضہ ادا کیا۔ کشتی والے نے حضرت مالک سے بھی پیسے مانگے جس پر حضرت مالک نے جواب دیا کے میرے پاس تو پیسے نہیں ہیں۔ کشتی والے نے دوسری بات نہ سنی اور ناؤزباللہ حضرت مالک کو تھپڑ مارنا شروع کر دیے۔

    Advertisement

     

     

    اتنا پیٹا کے آپ کشتی میں بے حوش ہو کر گر گئے۔ ادھر ایک بندے کے پاس پینے والا پانی تھا اس نے آپ کے چہرے پر چھڑکاؤ کیا جس سے آپ کو حوش آیا۔ جب وہ حوش میں آ کر بیٹھے تو کشتی والے نے دوبارہ عرض کی کے تمہیں عقل نہیں ہے پیسے تو لے کر آتے۔

    Advertisement

     

     

    حضرت مالک نے کہا میں پھر کبھی دے دوں گا، تمہارا میرا ادھار سہی۔ اس نے جسارت کے لیے دوبارہ آپ کی طرف قدم بڑھائے۔ تو آپ نے اللہ کی طرف متوجہ ہو کر دیکھا تو آنکھ میں ہلکا ہلکا آنسو تھا اور اٹھ کر کشتی کے کنارے پر چلے کئے۔ کشتی والے نے کہا کے ٹھر جاؤ پانی میں گر جاؤ گے۔

    Advertisement

     

     

    آپ نے اچانک دیکھا کہ پانی میں مچھلیاں آئیں اور ہر مچھلی کے منہ میں ایک ایک دینار رکھا ہوا ہے۔ اور وہ زبانِ حال سے کہہ رہی ہیں سرکار مجھ سے لے لے ، سرکار مجھ سے لے لے۔ آپ نے ایک مچھلی کے منہ سے دینار پکڑ کر اس شخص کو دے دیا۔ اب ساری کشتی کے لوگ حیرت میں ڈوب گئے۔ کشتی والا آپ کے قدموں میں گر کر معافی مانگنے لگا۔

    Advertisement

     

     

    مالک نے فرمایا مجھے تیری کشتی کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم یوں بھی سفر کر لیا کرتے ہیں۔ پھر بسمہ اللہ کہہ کر کشتی سے نیچے قدم رکھا اور پانی پر چلتے ہوئے لوگوں کی نظروں سے غائب ہو گئے۔

    Advertisement

     

     

    پیر صاحب مزید کہتے ہیں کہ اللہ والوں نے اسی طرح بہت سی آزمائشیں دیکھی ہیں تو ہمیں بھی آزمائشوں سے گھبرانا نہیں چاہیے۔

    Advertisement