فردوس عاشق اعوان نے اندر کی کہانی بتا دی آخر بات ہوئی کیا تھی، چیف سیکٹری اور وزیراعلیٰ کے درمیان۔۔

حالیہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ کے درمیان بد مزگی دیکھنے کو آئی، جس کو ہر بندے نے اپنے نظریہ سے دیکھا۔

Advertisement

تاہم چیف سیکٹری نے اس پر نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ کو شکایت لگائی، جس پر ویزر اعلیٰ نے اس معاملے کی انکوائری خود سے کرنے کا اعلان کیا۔

Advertisement

اس پر بات کرتے ہوئے، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت چینی کی قیمت میں 20 روپے کمی کر کے دے رہی ہیں لیکن یہ نام نہاد انتظامی عہدیدار عوام کو وہ چینی ذلیل و خوار کر کرے گھنٹوں قطاروں میں لگا کر دے رہے ہیں۔

Advertisement

ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ خاتون اور ان میں یہ کام کرنے کا حوصلہ نہیں ہیں تو وہ جا کر کوئی اورنوکری کریں جو ان کے آرام اور سکون میں خلل نا ڈالے۔ جب 65 روپے کلو چینی عوام کو اتنی ذلیل کر کے دی جاتی ہیں تو اسسٹنٹ کمشنر اے سی والے کمرے میں بیٹھنے کے لئے عوام کا پیسہ کھا رہے ہیں۔

Advertisement

ان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ ویڈیو کی بنا پر ان پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ کہی انہیں پرٹوکول نا ملنے کی وجہ سے ایسا کیا۔ فردوس کا کہنا تھا کہ ایسی بلکل بھی کوئی بات نہیں۔

Advertisement

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں