Headlines

    ابلیس کے والدین کی سے لڑنے جب فرشتے آئے تو انہوں نے اسے ختم کر دیا اور ابلیس کو پکڑ کر۔۔

    ابلیس کے والد کا نام چلیپا تھا اور کنیت ابو الغوی تھی جس کا چہرہ ببّر شیر جیسا تھا اور وہ نہایت قد آور تھا۔ اس کا لقب شاشین تھا اور اس کی قوم اس کو شاشین کہہ کر ہی پکارتی تھی۔

     

    اس کی والدہ کا نام تبلیث تھا اور چہرہ بھیڑیئے کی مانند تھا۔ اور اس کا لقب زبی تھا۔ وہ بھی اپنے شوہر کی طرح نہایت دلیر اور طاقت ور تھی۔ اس نے اپنے خاوند کے ہمراہ بہت سی کامیابیاں سمیٹی تھیں۔ یہ اتنی بہادر تھی کہ جنات کے بچے بچے کی زبان پر تھا کہ تبلیث کے ہوتے ہوئے کوئی بھی دنیا کی طاقت ہمیں نہیں زیر کر سکتی۔

    Advertisement

     

    جب ان کی حرکات سے زمین لرز اُٹھی تو آسمان سے فرشتوں کو حکم آگیا کہ جاؤ ان جنّات کو پھینکو۔ ابلیس کا خیال تھا کہ فرشتوں نے میری والدہ کے مقابلے میں آکر بہت غلطی کی ہے۔ اور انہیں بہت بڑی شکست ہونے والی ہے۔

     

    Advertisement

    لیکن پھر ابلیس نے کہا کہ اللہ جانے کیا ہوا کہ ہم کمزور پڑھ گئے اور فرشتے ہم پر غالب آنے لگے۔
    فرشتے درد ناک طریقوں سے ختم ہو رہے تھے۔اسی طرح ابلیس کے والد اور والدہ بھی ختم ہو گئے۔

     

    فرشتوں اور قومِ ابلیس کے درمیان جو مقابلہ ہوا اس میں جو جنات قیدی بنائے گئے تھے ان قیدیوں میں ابلیس بھی شامل تھا۔

    Advertisement

     

    پھر اللہ نے فرشتوں کو حکم دیا عزازیل کی اچھی تربیت کرو چنانچہ فرشتوں نے ابلیس کی بہترین تربیت کی۔ عبادت کے آداب سمجھائے۔ اس نے اپنی ذہانت کی وجہ سے س کچھ ہت جلدی سیکھ لیا۔ یہاں تک کہ پہلے آسمان والوں نے اس کو عابد کہا دوسرے آسمان والوں نے اسے زاہد کہا تیسرے آسمان والوں نے عارف، چوتھے آسمان والوں نے ولی پانچویں آسمان والوں نے طقی چھٹے آسمان والوں نے خاشع اور ساتویں آسمان والوں نے عزازیل کے لقب سے مقلّب کیا۔ چند ہی عرصے میں وہ سب کچھ سیکھ گیا۔

     

    Advertisement

     

    رفتہ رفتہ اپنی قابلیت کےباعث یہ فرشتوں کا بھی استاد بن گیا۔

     

    Advertisement