Headlines

    پاکستان کے غیر مسلم بچے نے پاکستان کا نام روشن کر دیا، لیکن پھر اس کے ساتھ ایسا کیا ہوا۔۔

    اقبال مسیح جو ایک عظیم پاکستانی ہیرو ہے اس سے دنیا واقف ہے۔ اقوامِ متحدہ ہر سال اس کے نام سے ایوارڈ جاری کرتا ہے۔ اس کی زندگی پر کئی کتابیں لکھی گئیں اور اس کے نام پر دنیا میں کئی ادارے موجود ہیں۔

    اقبال مسیح ضلع شیخوپورہ کے شہر مُریدکے میں ایک مسیحی گھرانے میں پیدا ہوا تھا۔ اقبال کی والدہ ایک کارپٹ فیکٹری میں کام کرتی تھیں۔اور اسی سے ان کا گزر بسر ہوتا۔ اقبال کی والدہ نے اپنے بڑے بیٹے کی شادی کے لئے 600 روپے کا قرض ارشد نامی تاجر سے لے رکھا تھا۔ جو وہ بیماری کے باعث ادا نہ کر پائیں اور بدلے میں اقبال کو فیکڑی مالک کے حوالے کرنا پڑا۔ اور چار سال کی عمر میں ہی اقبال کارپٹ فیکڑی میں مزدوری کرنے پر مجبور ہو گیا۔ 6 سال تک اقبال دن میں 14 گھنٹوں کے لئے مزدوری کرتا رہا۔ مگر قرض وہیں کا وہیں موجود رہا۔

    اقبال 1990 میں دس سال کی عمر میں غلامی کی زنجیریں توڑ کر بھاگ نکلا۔ لیکن جلد ہی اسے گرفتار کر لیا گیا، اسے دوبارہ فیکڑی میں کام کے لئے قید کر لیا گیا۔لیکن اقبال اس فیکڑی سے خود بھی آزادی چاہتا تھا اور وہاں پر موجود تمام بچوں کو بھی آزاد کروانا چاہتا تھا۔ پھر ایک سال بعد اقبال دوبارہ بھاگنے میں کامیاب ہو گیا۔اس دفعہ وہ چائلڈ لیبر تنظیم کے پاس جا پہنچا، جنہوں نے اسے غلامی سے نجات دلوائی۔ اقبال نے 3000 بچوں کی رہائی کروائی۔

    Advertisement

    اقبال نے 10 سال کی عمر میں بچوں کی آزادی کی پہلی تحریک کی بنیاد رکھی جس کا نام بونڈڈ چائلڈ لیبریشن تھا۔ اقبال صرف 10 سال کی عمر ایک لیڈر بن چکا تھا۔جس نے ہزاروں بچوں کو غلامی سے آزاد کروایا۔
    اقبال 11 سال کی عمر میں 4 فٹ سے بھی کم کا تھا۔1994 میں اقبال کو امریکہ بلا کر چائلڈ ہیرو کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ جس کے تحت اس کو 15000 ڈالرز ماہانہ کی تعلیمی سکالرشپ دی گئی۔

    1994 میں جب وہ امریکہ سے واپس اپنے گاؤں پہنچا تو سولہ اپریل کوسائیکل چلارہا تھا جب نا معلوم افراد نے اس کی زندگی ختم کر ڈالی۔

    Advertisement