کوکا کولا کی بوتل کس مرض کے لئے بنایا گیا شربت ہے، ربڑ ایجاد کیسے ہوئی، آلو کی چپس بنی کیسے۔۔

دلچسب ایجادا:
کوکاکولا کی ایجاد انوکھے انداز سے ہوئی تھی۔ یہ واقعہ 1968 کا ہے جب ڈاکٹر جان بریڈ معدے کی تیزابیت ختم کرنے اور سر درد سے چھٹکارے کے لئے ایک سیرپ بنا رہے تھے۔ تجربے کے طور پر اس سیرپ میں شراب کی تھوڑی مقدار بھی ڈالی جا رہی تھی، لیکن انہیں یہ مشکل درپیش آئی کہ ان دنوں ایٹلانٹا میں شراب بَین تھی تو انہوں نے اس میں شراب کی جگہ کاربونیٹڈ واٹر شامل کیا۔ جس کے بعد اس کو ٹیسٹ کیا گیا۔ اس سِیرپ کو لوگوں نے بہت پسند کیا۔ بلکہ اس کی مدد سے معدے کی گیس اور تیزابیت سے بھی چھٹکارا ملنے لگا۔یوں کوکا کولا کا ایک کین 5 سینٹس میں بیچا جانے لگا۔

ڈائنامائٹ: یہ ایک ایسا کیمیکل کمپاؤنڈ ہے جس کی مدد سے خطرناک ہتھیار بنائے جاتے ہیں۔ اس کی ایجاد بھی ایک اتفاق ہی ہے۔ افریڈ نوبیل نامی سائنسدان نے نائٹرو گلیسرین پر تجربات کیے ایک دن وہ لیب میں کام کر رہے تھے کہ انہیں خیال آیا کہ نائٹرو گلیسرین اور کیسلگرل کو ایک ساتھ ملایا جائے۔ ان کا یہ خیال انتہائی خطرناک ثابت ہوا۔ جیسے ہی انہوں نے ان دونوں کو ملایا اور پھر کچھ ایسا ہوا کہ سب کچھ تحس نحس ہوگیا۔ یہاں تک کہ وہاں پر موجود الفریڈ کے بھائی اس دنیا سے چلے گئے۔

ایکس رے مشین: وِل ہیم نے 8 نومبر 1995 کو کارٹ بورڈ سے ڈھکے ہوئے ایک ویکیوم ٹیوب پر تجربہ کر رہے تھے کہ اسی دوران ان کو یہ محسوس ہوا کہ پاس ایک کیمیکل سکرین سے روشنی نکل رہی ہے۔ اسی دوران ان کا ہاتھ اس پر لگا اور ان کو اپنے ہاتھ میں موجود ہڈیاں دکھائی دینے لگیں۔ چند مزید تجربات کر کے ایکسرے مشین ایجاد کر لی گئی۔
میچ باکس: ماچس کی ایجاد بھی اتفاقیہ تھی یہ 1826 کا واقعہ ہے جب ایک مشہور کیمیا دان جان واکر ایک دوائی کی تیاری کے لئے کیمیائی مادے کو لکڑی کی سٹک سے ملا رہے تھے، اسی دوران انہوں نے نوٹ کیاکہ سوکھے ہوئے مادے کو لکڑی کے ساتھ رگڑنے سے آگ پیدا ہوتی ہے۔ اس طرح ماچس ایجاد ہوئی۔

Advertisement

مائکروویو اوّن: ایک سائنسدان بجلی کو منتقل کرنے والی ایک ٹیوب پر کام کر ہے تھے کہ انہیں محسوس ہوا کہ ان کی جیب میں پڑی چاکلیٹ پگھل گئی ہے۔ انہوں نے سوچا کہ یہ ٹیوب کی وجہ سے ہوا ہے۔ پھر اس ٹیوب کو ایک مشین میں بند کر دیا گیا تاکہ اس کا اثر کسی کو بھی نقصان نہ پہنچا سکے۔ اور اس طرح مائکروویو اوّن ایجاد کیا گیا۔

آلو کی چپس: اس کو تیار کرنے کا طریقہ ایک افریقن امریکن شخص نے ایجاد کیا تھا۔ جارج کرمپ ایک ریسٹورنٹ میں کام کیا کرتا تھا۔ اس کا ایک لاڈلا گاہک بھی تھا جو روزانہ آلو کے تلے ہوئے کتلے کھانے آتا، لیکن ایک دلچسپ جواب کے طور پر ہمیشہ وہ شخص ان آلوؤں کو یہ کہہ کر واپس بھجوا دیتا کہ یہ کرسپی نہیں ہیں۔ اس سے تنگ آکر جارج نے آلو کے بالکل باریک ٹکڑے کاٹے اور انہیں خوب تیل میں فرائی کیا۔ جس سے وہ کرسپی ہونے لگے۔ اس ایجاد کے بعد چپس بننے لگے۔

ربڑ: یہ بھی ایک اتفاقیہ ایجاد ہے۔ قدرتی طور پر اس کو ایک درخت سے حاصل کیا جاتا تھا لیکن وہ ٹھیک نہ ہوتا۔ اسی وجہ سے ایک سائنسدان نے اس پر کام شروع کر دیا۔ چارلیس کے ہاتھ میں ایک دن قدرتی ربڑ تھا جو غلطی سے نیچے پڑے آگ کے چولہے میں گر گیا۔ جس سے اس کا رنگ تبدیل تو ہوا لیکن اس کی ساخت میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ اس کو معلوم ہوا کہ اس طریقے سے ربڑ کو موسمی کیفیات سے بچایا جا سکتا ہے۔

Advertisement

شیٹر پروف گلاس: ایڈروُڈ نامی فرانسیسی سائنسدان اپنے تجربے میں مصروف تھے کہ اچانک اس کے ہاتھ سے شیشے کا بیکر پھسلا اور زمین پر جا لگا لیکن حیران کن طور پر وہ ٹوٹنے سے بچ گیا۔ البتہ اس میں بے شمار دراڑیں آ چکی تھیں۔ اس حادثے کی بدولت شیٹر پروف گلاس کی ایجاد ہوئی۔ یعنی ایسا شیشہ جو ٹوٹ کر بکھرے نہ۔ ایسے شیشوں کو گاڑیوں کی ونڈ سکرینوں میں استعمال کیا جاتا ہے تاکہ حادثے کی صورت میں زیادہ نقصان نہ ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *