جب حضرت سلیمان نے اللہ سے درخواست کی کہ وہ تمام مخلوقات کو کھانا کھلانے چاہتے ہیں تو اللہ نے فرمایا۔

حضرت سلیمان ؑ نے جب دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے دنیا کو وسیع کر دیا اور دنیا ان کے ہاتھ میں ہوگئی ہے تو کہنے لگے اے میرے معبود تو مجھے اجازت دیں کہ میں تیری تمام مخلوقات کو پورے سال کا کھانا کھلاؤں، ان کی دعوت کروں۔ اے میرے ر ب یہ میری خواہش ہے۔ اللہ نے ان کے پاس وحی بھیجی اور فرمایا اے سلیمان تو اس پر ہر گز قدرت نہیں رکھتا۔

حضرت سلیمانؑ نے ایک مرتبہ پھر درخواست کی یا الہٰی مجھے صرف 7 دن کی اجازت دے دیں۔ کہ میں آپکی مخلوقات کو کھانا کھلا سکوں۔ اللہ تعالیٰ نے ایک مرتبہ پھر فرمایا کہ اے سلیمان تو اس چیز پر قدرت نہیں رکھتا۔

حضرت سلیمانؑ نے دوبارہ درخواست کی کہ اے میرے پرور دگار مجھے صرف ایک دن کی اجازت دے دیں کہ میں آپکی تمام مخلوقات کو کھانا کھلا سکوں۔ اللہ تعالیٰ نے تیسری مرتبہ پھر فرمایا کہ اے سلیمان تو اس پر قدرت نہیں رکھتا۔

Advertisement

بہر حال اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمانؑ کو ایک دن کی اجازت دے دی کہ وہ دنیا کی تمام مخلوقات کو کھانا کھلا دیں۔ حضرت سلیمانؑ نے تمام جنات اور انسانوں کو حکم دیا کہ وہ تمام کی تمام چیزوں کو جو زمین پر حلال ہیں یعنی گائے، بیل بکریاں وغیرہ ان کو جمع کر لیں۔ جنات اور انسانوں نے مل کر ان تمام چیزوں کو حضرت سلیمانؑ کے سامنے پیش کر دیا۔ بڑی بڑی دیگیں تیار کی گئیں پھر ان جانوروں کو ذبح کیا گیا اور ان کو پکایا گیا۔ آپؑ نے ہوا کو حکم دیا کہ کھانے پر دھیمے انداز میں چلتی رہے تاکہ کھانا خراب نہ ہو سکے۔ ہوا چونکہ حضرت سلیمانؑ کے ماتحت تھی اس لئے دھیمے انداز میں چلتی رہی۔ اس کے بعد حضرت سلیمانؑ نے دسترخوان بچھایا جس کی لمبائی اتنی زیادہ تھی کہ اگر ایک انسان اس کے ایک سِرے سے چلنا شروع کرتا تو دوسرے سرے تک پہنچنے میں اس کو ایک مہینے کا وقت لگ جاتا۔ جب تمام چیزیں تیار ہو چکیں تو اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمانؑ کے پاس وحی بھیجی اور فرمایا اے سلیمان تو مخلوقات میں سے کس سے دعوت شروع کرے گا۔ آپؑ نے فرمایا اے میرے پروردگار میں دریا کے جانوروں سے شروع کروں گا۔ اللہ نے سمندر کی ایک مچھلی کو حکم دیا کہ وہ حضرت سلیمانؑ کی دعوت کھائے ۔ مچھلی نے سر اٹھایا اور کہا کہ اے سلیمان میں نے سنا ہے کہ تو نے ضیافت کا دروازہ کھول دیا ہے اور آج میری تو ضیافت کرے گا۔ حضرت سلیمانؑ نے فرمایا کہ اے مچھلی تم نے ٹھیک سنا آجاؤ اور کھانا شروع کرو۔وہ مچھلی آگے بڑھی اور دسترخوان کے ایک سرے سے کھانا شروع کر دیا۔ مچھلی نے اس قدر کھایا کہ کچھ ہی وقت میں سارے کا سارا کھانا صاف کر دیا۔ اس کے بعد مچھلی نے آواز لگائی اے سلیمان مجھے کھانا کھلاؤ، میرا پیٹ ابھی تک نہیں بھرا۔حضرت سلیمانؑ نے فرمایا تم تو سارا کھانا کھا گئی اور اس سے بھی تیرا پیٹ نہیں بھرا۔ مچھلی نے کہا کہ اے سلیمان کیا مہمان کے لئے ایک میزبان کا جواب اس طرح کا ہوتا ہے۔ آپ کو جتنا کھانا بنانے میں کئی دن لگ گئے اتنا کھانا مجھے میرا پروردگار دن میں 3 مرتبہ پہنچاتا ہے۔ اور آج تک کبھی اس میں کمی نہیں ہوئی۔ اے سلیمان آج میرے کھانے کے روکنے کی وجہ تو بنا ہے کیونکہ تو نے آج رزق کا ذمہ لے لیا تھا۔ اس ہی وقت حضرت سلیمانؑ اللہ کے حضور سجدہ کرتے ہوئی گر پڑے اور کہنے لگے پاک ہے وہ ذات جو کفالت کرنے والی ہے مخلوق کی، جہاں سے مخلوق نہیں جانتی کہ کہاں سے آتا ہے۔

بے شک ہمارا رازق صرف اور صرف اللہ عطاء کرتا ہے چنانچہ ہمیں رزق صرف اس ہی سے مانگنا چاہئے۔

Advertisement

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں