بھیڑیے کے بارے میں ایسے حقائق جنہیں جان کر عقل بھی دنگ رہ جائے گی

بھیڑیے کو وحشت کی علامت سمجھا جاتا ہے لیکن اللہ نے اس کو ایسی بے شمار خصوصیات سے نوازا ہے جو ایک سلجھے ہوئے اور با شعور انسان میں دیکھی جاتی ہیں۔

بھیڑیے کبھی بھی مردان کھانے کو منہ نہیں لگاتا کیونکہ یہ اس کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ بھیڑیا میاں بیوی میں محبت کا ایک بے مثال جانور ہے۔ یعنی نر بھیڑیا صرف ایک ہی مادہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور مادہ بھیڑیا بھی اسی طرح نر بھیڑیا کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور یہ تعلق ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ اور اگر کوئی ایک دونوں میں سے اس دنیا سے چلا جائے تو دوسرا ساری زندگی کسی سے بھی ازدواجی تعلق نہیں رکھتا۔

بھیڑیا جانوروں کا وہ واحد قبیلہ ہے جو اپنے بچوں کو کھلانا پلانا اپنی زندگی کا لازمی جز سمجھتے ہیں۔ کیونکہ بھیڑیا اگر ضعیف ہو کر ایک جگہ لیٹ جاتا ہے تو اس کے بچے اس کے لئے کھانا لانا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھیڑیا کو والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا بھی کہا جاتا ہے۔

Advertisement

اس کے علاوہ بھیڑیا کی یہ منفرد خصوصیت بھی ہے کہ یہ وہ واحد جانور ہے جو جنات کا بھی قتل کر سکتا ہے۔ اس کی تیز آنکھوں میں جنات کو دیکھنے کی بھی خصوصیت پائی جاتی ہے۔

بھیڑیا صرف ایک آنکھ سے سوتا ہے اور جب ایک آنکھ کی نیند پوری کر لیتا ہے تو دوسری آنکھ سے سوجاتا ہے۔

جب بھیڑیے ایک جگہ سے دوسری جگہ جا رہے ہوتے ہیں تو وہ بطورِ کارواں کچھ اس طرح سے چلتے ہیں کہ پہلے سرے میں 3 بھیڑیے ضعیف اور مریض ہوتے ہیں۔ جبکہ دوسرے نمبر پر چیر پھاڑ کے ماہر بھیڑیے ہوتے ہیں ان کی ذمہ داری آگے چلنے والے بیمار بھیڑیوں کی ہوتی ہے جن کو وہ بار بار چیک بھی کرتے ہیں، پھر ان کے پیچھے طاقت ور دشمن سے دفاع کرنے والے بھیڑیوں کا ایک گروہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایک بڑا لشکر ہوتا ہے جو ضرورت کے وقت منتشر ہو کر دشمن کو چیر پھاڑ کرتا ہے۔ پھر اس کے بعد 5 بھیڑیا ہوتے ہیں اور آخر میں ایک پورے گروہ کا کمانڈر ہوتا ہے۔ جو کافلے پر نظر رکھتا ہے اور ہر طرف سے دشمن کا خیال بھی رکھتا ہے۔ اس کمانڈر کو عربی میں الف یعنی ہزار کہا جاتا ہے یعنی یہ ہزار کے برابر ایک کافی ہوتا ہے۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *