Headlines

    بلیک ہول آخر ہے کیا، قرآن میں موجود اس بارے وضاحت اور سائنس کا تصور

    اللہ کی ہر تخلیق شدہ چیز کو ایک دن اس دنیا سے ضرور چلے جانا ہے، یہ ہی قدرت کا نظام ہے۔ اسی طرح سورج یا اس سے اَربوں کَھبروں بڑے سیارے جن کو ریڈ جائنٹس کہتے ہیں اور یہ جلتی ہوئی گیسوں کا ایک بہت بڑا گولا ہوتے ہیں جب اپنی اپنی عمر پور ی کرنے کے بعد اس دنیا سے جانے لگتے ہیں تو جہاں ان کا سائز ایک طرف تیزی سے بڑھنا شروع ہو جاتا ہے وہیں ان کے اندر تہہ بہ تہہ مختلف اناصر پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور جب اس کے مرکز میں لوہا پیدا ہو جائے تو یہ پھٹ کر کائنات میں بکھر جاتے ہیں۔

    مگر اس کے مرکز میں موجود کشش کی وجہ سےایک ایسا کالا بھورا وجود میں آتا ہے جو کہ بعد میں بلیک ہول بن جاتا ہے، یہ بلیک ہول کائنات میں موجود بڑے بڑے سراخ ہیں جو اتنی شدید ترین کشش رکھتے ہیں کہ یہ پورے کے پورے ستارے تک کو نِگل سکتے ہیں۔ حتیٰ کے روشنی بھی ان کے پاس سے نہیں گزر سکتی یہ روشنی کو بھی جزب کر سکتے ہیں۔

    جہاں پر بھی یہ بلیک ہولز موجود ہوں گے وہاں ہر طرف تاریکی ہی تاریکی موجود ہوگی۔ یہ اتنی زیادہ کشش رکھتے ہیں کہ پوری کی پوری کہکشائیں ان کے گرد گھومنے پر موجود ہیں۔

    Advertisement