سانپ کے منکے کی اصل حقیقت سامنے آ ہی گئی، جانئے

سانپ کی دنیا میں تقریباً ساڑھے تین ہزار اقسام موجود ہیں، جس میں سے 375 ایسی اقسام ہیں جو زہریلی ہیں۔ جن کے کاٹنے سے کوئی بھی جاندار اپنی زندگی سے ہاتھ دھو سکتا ہے۔

سانپوں کے بارے میں ایک کہانی تو یہ مشہور ہے کہ اگر کوئی شخص کسی ناگ کو قتل کر ڈالے تو ناگن بدلے کے لئے اس شخص کا پیچھا کرتی ہے۔ اور سب سے مشہور بات یہ ہے کہ اِچھا داری ناگن جب سو سال کی عمر تک پہنچ جائے تو وہ انسانی روپ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ قصے بالکل بھی سچ نہیں۔

اسی طرح کا ایک قصہ جو جوگیوں نے مشہور کیا ہوا ہے وہ یہ ہے کہ سانپ کا منکہ سانپ کے سر سے حاصل کیا جاتا ہے، کچھ جوگیوں کا کہنا ہے کہ جو سانپ بوڑھا ہو جائے اس کے سر سے یہ منکہ حاصل کیا جاتا ہے۔ حقیقت میں یہ کالے رنگ کا پتھر ہوتا ہے جس کی لمبائی آدھا انچ ہوتی ہے۔ یہ پتھر کوبرا نسل کے سانپوں کے سر سے ہی حاصل کیا جاتا ہے۔

Advertisement

سانپ کے سر کے اوپر قدرت نے ایسی ایک تھیلی بنا رکھی ہوئی ہے جس میں سانپ کا زہر جمع ہوتا رہتا ہے۔ اور یہ تھیلی سانپ کے اوپری دانتوں میں کھلتی ہے، اور ان ہی دانتوں سے یہ شکار کرتا ہے۔

جب سانپ کئی عرصے تک زہر نہ اُگلے یعنی شکار نہ کرے تو اس کا یہ زہر اوپر جمع ہوتا رہتا ہے اور آہستہ آہستہ ایک پتھری کی صور ت اختیار کر لیتا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہتی ہے اور یہی پتھر منکہ کہلاتا ہے۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *