معاملات قابو سے باہر، ایک انسان سے کئی انسان لیبارٹری میں تیار کرنے کا تجربہ

لفظ کلوننگ سے مراد کسی بھی جاندار کی ہوبہو کاپی تیار کرنا ہے۔ وہ جاندار کوئی بھی جانور، پودے حتیٰ کہ انسان بھی ہوسکتے ہیں۔ یعنی کہ ایک انسان کے ڈی این اے سے کئی اور انسان بنانا۔

دو طرح کی کلوننگ ہوتی ہے، ایک کو تھیروپیٹک کلوننگ کہاجاتا ہے جس میں انسانی جسم کے سیلز کو لے کر دوائی یا ٹرانسپلانٹ کے مقصد کے لئے انہیں میڈیکلی طور پر کلون کیا جاتا ہے۔یعنی علاج کی غرض سے انسانی جسم کے سیلز کے ذریعے کوئی بھی اعضاء مصنوعی طور پر تیار کر کے کسی بھی جاندار کو لگائے جاتے ہیں۔

دوسرے طریقے کا نام ہے ریپروڈکٹو کلوننگ: اس میں پورے انسان کو کلون کر کے تیار کر لیا جاتا ہے۔

Advertisement

1966 میں ایک جوان بھیڑ کے ریپروڈکٹو سیل لے کر اس کو مصنوعی انڈے میں رکھا گیا اور اس سے ایک ڈولی نام کی بھیڑ کو کامیابی سے پہلی بار مصنوعی طور پر لیبارٹری کے اندر تیار کیا گیا۔277 بار کلوننگ کرنے کے بعد ڈولی کو کامیابی سے بنایا گیا تھا، یہ بھیڑ بس ساڑھے چھ سال تک زندہ رہی۔

انسانوں کی کلوننگ کی جائے تو 100 میں سے 1 ہی ایسا ہوتا ہے کہ زندہ بچ پائے۔اور اگر زندہ بچ بھی جائے تو زیادہ لمبے عرصے کے لئے زندہ نہیں رہ پاتا۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *