ٹوئیٹر بنانے والوں نے کیسے دھوکے سے اپنے ہی دوست کو اس کمپنی سے نکالا، وہ کون تھا اور اس کے ساتھ کیا ہوا، جانئے

ٹویٹر ایک سوشل نیٹورکنگ سروس ہے جس کی مدد سے لوگ اس ویب سائٹ پر ٹویٹس کے نام سے اپنے خیالات شیئر کرتے ہیں اور اپنی پسندیدہ ٹویٹس کو ری-ٹویٹس بھی کر سکتے ہیں۔

ٹویٹر کی تخلیق 4افراد : ایون ویلیم، نواَہ گلاس، کرسٹوفر اور جیک پیٹرک نے کیا۔ اس کی کہانی 2005 میں شروع ہوتی ہے جب نواہ گلاس نے اوڈیوکے نام سے ایک سروس شروع کی تھی، جو ایک آڈیو محفوظ کرنے کی سروس تھی۔اس کو اس کے لئے ابتدائی انوسٹمنٹ کی ضرورت تھی۔ نواہ گلاس کا پڑوسی ایون ویلیم جو کہ گوگل کا ملازم رہ چکا تھا، اور حال ہی میں اس نے بلوگنگ گوگل کو بیچ کر اچھی خاصی رقم بھی اکٹھی کر لی ہوئی تھی، جب اس کو اوڈیو کے بارے میں پتا چلا تو اس نے انوسٹمنٹ کی حامی بھر لی۔ یوں اس کمپنی میں دونوں برابر کے حصے دار ہوگئے۔

اوڈیو کی سروس کو شروع ہوئے ابھی کچھ ہی ماہ ہوئے تھے کہ ایپل کے سالانہ ایونٹ میں سٹیو جان نے آئی پوڈ اور آئی ٹیونز کے لئے فور کاسٹنگ کی سہولت دینے کا اعلان کیا تو اوڈیو کا کاروبار چلنے سے پہلے ہی ختم ہو گیا۔ ایون نے کمپنی بند کرنے کا مشورہ دیا۔ جبکہ نواہ نے فوری طور پر کمپنی بند کرنے کی بجائے اپنے ملازمین کو اوڈیو کے مطلق مختلف خیالات پر کام کرنے کا مشورہ دیا۔

Advertisement

اسی دوران نواہ اور جیک بہت اچھے دوست بن گئے، ایسے ہی بیٹھے ہوئے نواہ نے کہا کہ کیوں نہ ایسی سروس کا ایجاد کیا جائے جس میں ایک شخص کے میسج کرنے سے خود بخود اس کے سارے دوستوں تک اس کا وہ پیغام پہنچ جائے۔

اس خیال سے ہی ٹویٹر کی شروعات کی گئی۔تمام سرمایہ داروں نے اوڈیو سے اپنی رقمیں نکلوا کر ایون کو اپنے شیئرز بیچ دیے۔ اکثر افراد اس کو ایون کی چال تصور کرتے ہیں کہ ایون کو معلوم تھا کہ ٹویٹر ایک کامیا ب تجربہ ہو گا اس لئے اس نے تمام اساجات خرید لئے۔
2006 میں ٹویٹر کو پہلی بار عوام کے لئے پبلک کیا گیا اور 2007 میں اس کو رجسٹر کروایا گیا۔

ایون نے کچھ عرصہ بعد ہی نواہ کو کمپنی سے نکال دیا۔ان دونوں کے درمیان کافی غلط فہمیاں موجود تھیں، جیک ڈورسی نے اسی غلط فہمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایون کے ذریعے نواہ کو کمپنی سے نکلوا دیا تھا۔نواہ کافی عرصہ تک اس فیصلے کا ذمے دار ایون کو ہی سمجھتا رہا لیکن جب جیک کو کمپنی کا سی ای او بنایا گیا تو حقیقت سامنے آئی۔

Advertisement

ان سب کے باوجود ٹویٹر ترقی کرتا رہا اور2007 تک ٹوییٹر کو انٹرنیٹ میسج کے طور پر پہچانا جانے لگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *