بریکنگ نیوز:غارِ حرا اورآس پاس کی چٹانوں کو قدرتی شکل میں بحال کر دیا گیا

    مکہ مکرمہ(ویب ڈیسک) مکہ مکرمہ میں واقع غار حرا اسلام کی تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ نبی کریم نبوت کے اعلان سے قبل اور بعد کئی سال تک اس غار میں عبادت الٰہی میں مصروف رہے اور یہیں پر آپ پر پہلی بار وحی نازل ہوئی۔ اس لحاظ سے یہ مقام بہت حُرمت و تقدیس کا حامل ہے۔ بدقسمتی سے یہاں آنے والے زائرین غار حرا اوراس کے آس پاس کی چٹانوں پر اپنے نام لکھ دیتے تھے اور مختلف نقش و نگار بھی بنا دیتے تھے، جس سے اس متبرک مقام کی بے ادبی کا پہلو نکلتا تھا۔تاہم اب غارِ حرا کی تقدیس اور اس کے فطری حُسن کو متاثر کرنے والی یہ تحریریں اور نقش و نگار ختم کر کر اس پہاڑی مقام کو قدرتی شکل میں بحال کر دیا گیا ہے۔ غار حرا جبل نُور پر 634 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔اس غار میں ایک وقت میں چار سے پانچ لوگ داخل ہو سکتے ہیں۔ یہ مقدس غار مسجد الحرام سے چار کلومیٹر کی دُوری پر واقع ہے۔ واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل عرفات کی پہاڑی کی ایسی تصویریں سامنے آئی تھیں جہاں عمرہ اور حج کی غرض سے آئے پاکستانی منچلوں نے مختلف چٹانوں پر اپنے نام لِکھ ڈالے ہیں۔حالانکہ عرفات اور دیگر پہاڑیاں مْسلم اْمّہ کا قدیم تاریخی و ثقافتی ورثہ ہے، جس کو ذرا برابر بھی نقصان پہنچانا یا اس کی صورت بگاڑنا کسی صورت بھی گوارا نہیں کیا جا سکتا۔اور بطور مسلمان ایسا کرنا بہت ہی شرمناک بات ہے۔ مگر چند پاکستانیوں کی جانب سے ایسی حرکات کا سلسلہ لگاتار جاری ہے۔ پاکستانیوں کی وال چاکنگ سے صرف عرفات کی پہاڑی کا ہی حْسن متاثر نہیں ہوا، جبکہ عرفات مائدہ میں جبل رحمت نامی مقدس پہاڑی بھی ان کی اس بے ہودہ حرکات سے محفوظ نہیں رہ سکی۔ان تصویروں کے سامنے آنے پر لوگوں کی جانب سے سخت غم و غصے کا اظہار کیا گیاہے، اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگر مقدس مقامات پر کسی قِسم کی وال چاکنگ کرتا پایا جائے تو اسے سخت سزا دی جائے اور بھاری جرمانہ بھی عائد کیا جائے۔تاکہ دیگر افراد کو حوصلہ شکنی ہو اور کوئی مستقبل میں اس طرح کا کام کرنے کا حوصلہ نہ کرے۔