وزیر اعظم کو سورۃ الحجرات کی آیت نمبر 11 کو پڑھنے کی ضرورت ہے۔ چوہدری شجاعت

    لاہور (اعتماد ٹی وی) سیاسی ماحول کی گرما گرمی عروج پر ہے ۔ حکومت مخالف نکلا پیپلز پارٹی کا لانگ مارچ اسلام آباد پہنچ چکا ہے ۔

     

    تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کے جہاں سیاست میں ہلچل مچی ہوئی ہے وہیں حکومت بھی ہاتھ پر ہاتھ رکھ نہیں بیٹھی ہوئی۔ توڑ جوڑ کے عمل شروع ہیں۔ فیصلہ کس کے حق میں آئے گا یہ تو وقت بتائے گا۔

    Advertisement

     

     

    حال ہی میں وزیر اعظم کا خیبر پختونخواہ میں جلسہ ہوا جس میں وزیر اعظم نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے ان کو مولانا فضل الرحمان کو مولانا ڈیزل کہنے سے منع کیا ہے۔ تو میں نے جنرل قمر باجوہ سے کہا کہ میں نہیں کہتا عوام کہتی ہے کہ مولانا ڈیزل سے چلتے ہیں۔ اس پر مخالف پارٹیوں نے احتجاج کیا ۔

    Advertisement

     

     

    حکومت مخالف پارٹیوں کے مطابق وزیر اعظم اگر اپنی اپوزیشن کو عزت نہیں دے سکتے تو پھر ان کے نام بھی نا بگاڑا کریں۔ وزیراعظم مذکرات کی بات کرتے ہیں مذاکرات وہا ں ہوتے ہیں جہاں بات کرنے کی تمیز ہو ۔ اس حوالے سے مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدی شجاعت سے سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ہرانسان کی عزت نفس ہوتی ہے جس کو مجروح نہیں کرنا چاہیے۔

    Advertisement

     

     

    موجودہ وزیراعظم کہتے ہیں کہ وہ پاکستان کو ریاست مدینہ بنانا چاہتے ہیں اور پھر وہ خود ہی اس ریاست کے قوانین کا احترام نہیں کرتے۔ وزیر اعظم کو قرآن پاک کی سورۃ الحجرا ت کی آیت نمبر 11 اچھے سے پڑھنی چاہیے۔

    Advertisement

     

     

    مزید کہا کہ سیاست بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ یہاں ظرف بڑا کرنا پڑتا ہے۔ وزیراعظم سیاسی رہنماؤں پر الزامات عائد کرتے ہیں حالانکہ اس سلسلے میں کچھ بھی ثابت نہیں ہو سکا مقدمات چل رہے ہیں کوئی بھی جرم ثابت نہیں ہو رہا۔

    Advertisement

     

     

    اس پر مزید یہ وزیراعظم بچگانہ رویہ اپناتے ہوئے سیاست دانوں کے نام بگاڑنے کے ساتھ برُ ے الفاظ بھی استعمال کرتے ہیں۔ جب آپ خود ہی ریاست مدینہ کے قوانین کو پامال کر رہے ہیں تو کوئی کیسے ان کی پاسداری کرے گا۔

    Advertisement

     

     

    Advertisement