کپتان بابر اعظم اور وکٹ کیپر محمد رضوان کی جوڑی نے نیا اعزاز اپنے نام کر لیا۔

    کپتان بابر اعظم اور  وکٹ کیپر محمد رضوان کی جوڑی نے نیا اعزاز اپنے نام کر لیا۔

     

     

    Advertisement

     

     

     

    Advertisement

     

    پاکستان اوپنرز  بابر اعظم اور محمد رضوان  کی جوڑی مشہور ہو گئی ۔ انھوں نے مل کر کھلینے سے نئے ریکارڈ بنائے۔

     

    Advertisement

     

     

     

    Advertisement

     

     

     

    Advertisement

    ا ن کی جوڑی  جب جب میدان میں آئی اللہ تعالیٰ نے ان کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ اب سے قبل کسی بھی جوڑ ی کے ایسے کھیل اور ایسے ریکارڈ نہیں دیکھے گئے۔

     

     

    Advertisement

     

     

     

    Advertisement

     

    ان دونوں کھلاڑیوں نے  بھارتی کھلاڑیوں سے ریکارڈ چھین لیا۔ بھارتی جوڑی نے 52 اننگرز مں 1743 رنز بنانے کا ریکارڈ بنایا ہوا تھا

     

    Advertisement

     

     

     

    Advertisement

     

     

    جب کہ بابر اعظم اور محمد رضوان نے 36 شراکتوں میں بھارتی جوڑی سے زیادہ رنز بنا لئے ان کے رنز کا ہدف 1800 کا ہندسہ بھی پار کر گیا۔ گزشتہ روز اس جوڑی نے  203 رنز کی ناقابل شکست شراکت داری قائم کی ہے۔

    Advertisement

     

     

     

    Advertisement

     

     

     

    Advertisement

     

     

     

    Advertisement

    دونوں نے میچ کے بعد میڈیا سے بات چیت کر تے ہوئے کہا کہ ہم ایک منصوبہ بندی کے تحت  کھیل کے میدان میں اُترتے ہیں

     

     

    Advertisement

     

     

     

    Advertisement

     

    ہماری سوچ صرف پاکستان کے لئے ایک ہو کر کھیلنا ہوتی ہے باقی کامیابی اللہ تعالیٰ دلاتے ہیں۔ ہم اپنی بہترین کارکردگی دیتے ہیں۔

     

    Advertisement

     

     

     

    Advertisement

     

     

     

    Advertisement

    ہماری کوشش ہوتی ہے کہ پہلے دس اووز میں اسکور کا ٹارگٹ 80 سے 100 تک کریں۔ اس کے بعد پھر ہر اوور میں 15 سے 20 اسکورز کر یں۔

     

     

    Advertisement

     

     

     

    Advertisement

     

     

     

    Advertisement

    اس طر ح پر میدان میں اپنا  کھیل پیش کر تے ہیں۔ جو کہ کبھی کام کر جاتا ہے کبھی  نہیں کرتا ۔ لیکن اس سے ہمارے محنت میں کوئی فرق نہیں آتا۔

     

     

    Advertisement

     

     

     

    Advertisement

     

     

    جیت کر بھی ہمیں تنقید سننی پڑتی ہے اور ہار کر بھی ۔  لیکن ہم ان باتوں کو اہمیت نہیں دیتے ۔ ہم بس اپنے ملک کا سوچتے ہیں۔

    Advertisement