بھارت اب ترکی اور پاکستان کی دوستی توڑنے میں سرگرم، اہم ثبوت سامنے آگئے

    اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان چین کی دوستی پوری دُنیا میں مشہور ہے، جس کی وجہ سے کچھ لوگ اس دوستی سے بہت جلتے ہیں۔ اس کے بعد پاکستان اور ترکی کی دوستی بھی اپنی راہ پوری دُنیا میں بناتی جارہی ہے۔

     

    مگر ہمارے ہمسائے ممالک بھارت اور افغنستان اس بات سے بہت نا خوش ہوتے ہے کہ کیوں پاکستان دوسرے ممالک سے اپنے تعلقات بہتر بناتا جا رہا ہے۔ اس کی ایک واضح مثال ہمیں حال میں ہی ہونے والے ایف اے ٹی ایف کی میٹنگ سے ملتی ہے۔ جس میں بھارت نے کوئی کثر نہیں چھوڑی کہ وہ پاکستان کو بلیک لسٹ کروائے۔

    Advertisement

     

    موجودہ تحریر میں آپ کی توجہ جس طرف گامزن کرنے کی ضرورت ہے، وہ ترکی میں موجود بھارت کی ایمبیسی کا ٹویئٹ ہے، جس میں لکھا گیا ہے کہ پاکستان 1947 میں بنا مگر 100 سال کے بعد ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔

    Advertisement

    ترکی میں موجود بھارتی ایمبسی کا یہ ٹویٹ کرنے کا مقصد کیا ہے، وہ تو آپ سمجھ ہی گئے ہونگے، لیکن شاید، بھارت کو ماسوائے پروپیگینڈا کرنے کے اور کچھ کام ہی نہیں، آپ کی توجہ کچھ بھارت کے ریٹائرڈ آرمی آفیسرز کی طرف دلواتے ہیں، جنہوں نے باقاعدہ یہ تجویز دی کہ پاکستان کو ختم کر دیا جائے اور ان کے خلاف کمپین کرنے پر پیسہ لگایا جائے۔

     

    لیکن بھارت کی توجہ پاکستان کے حالات کی طرف مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، جس میں پاکستان کی حکومت نے دارلحکومت اسلام آباد میں ہندو برادری کے مندر بنانے کی اجازت دی۔ کیونکہ پاکستان کی بنیاد اسلام پر ہے، اور اسلامی ریاست میں ہر مذہب کے لوگوں کو ان کے مذہب کے مطابق عبادت کرنے کی اجازت ہے۔

    Advertisement

     

    بھارت کو شاید یاد دلوانے کی ضرورت ہے کہ بھارت نے پاکستان فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی، اور ان کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا تھا؟ پورے بھارت کو پھر انسانی قوانین اور جنیوا کے کنونشن یاد آگئے تھے، مگر پاکستان نے انہتائی بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پکڑے گئے پائلٹ کو عزت کے ساتھ رہا کیا۔

     

    Advertisement

    کیا ابھی بھی پاکستان مکمل نہیں ہوا یا پھر بھارت کی مندرجہ بالا بتائی گئی حماقتوں سے بھارت مکمل ہو گیا؟

     

    کیا ابھی بھی کچھ بھارت کو یاد کروانے کی ضروت ہے کہ ان کی موجودہ حکومت مذہب کے نام پر کس حد تک چلی گئی ہے، جس کا ثبوت بین الاقوامی میڈیا سے ملتا ہے۔

    Advertisement

     

    ان کچھ حقائق کو یاد کروانے کا یہ مقصد نہیں ہے کہ بھارت کو سرزنش کیا جائے اور بُرا بھلا کہا جائے، ان کا مقصد فقط بھارت کی عوام کو اس بات سے آگاہ کرنا ہے کہ مسلمان بھی بھارت میں رہتے ہیں اور ہندو بھی پاکستان میں رہتے ہیں۔ کچھ لوگوں کی وجہ سے دو ملک آپس میں کیوں الجھیں؟

     

    Advertisement

    بھارت اور پاکستان کی عوام کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے تاکہ اس خطہ میں امن و امان کے ساتھ خوشخالی آ سکے۔ جو کہ دُونوں ملکوں کے لئے انقلاب ہو گا۔ فیصلہ اب آپ نے کرنا ہے؟

     

    بقلم: آکاش

    Advertisement