Headlines

    اس جانور کے جلد سے نا صرف جیولری بنتی بلکہ مردانہ طاقت کو بھی تقویت ملتی ہے یہ جانور قبر سے مردے کھاتا ہے؟ جانئے حیرت انگیز حقیقت پیگولین کے بارے میں۔

    سَلاّ ( پینگولین ) جانورو ں کی ایک نایاب قسم جو اب ناپید ہوتی جا رہی ہے ۔

     

    لاہور ( اعتماد ٹی وی ) پینگو لین / سَلاّ ایک ایسا جانور جس کے متعلق ایشیائی ممالک میں مختلف قصے مشہور ہیں جو کہ حقیقت کے برعکس ہیں ۔ سَلّا کو عام ایشیائی ممالک میں “بِجّو” کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ اس کے متعلق قیاس کیا جاتا ہے کہ یہ ایک مردہ خور جانور ہے اور قبرستانوں میں اس کا ڈیڑا ہو تا ہے جہاں یہ نئی میّتوں کی تلاش میں رہتا ہے جیسے ہی مردے کو دفن کیا جاتا ہے اس کو سب سے پہلے پتہ چل جاتا ہے ۔

     

    یہ تمام باتیں جھوٹ ہیں سَلاّ ایک بے ضرر اور معصوم جانور ہے ۔ اس کی دنیا بھر میں صرف 8 اقسام باقی رہ گئی ہیں ۔ جن میں سے ا یک قسم پاکستان میں پائی جاتی ہے ۔ اس کا رنگ گولڈن براؤن ہوتا ہے ۔ اس کی لمبائی تقریباً 2.5 فٹ تک ہوتی ہے اور چوڑائی 1 فٹ ہوتی ہے ۔ انسان اس کو باآسانی اُٹھا سکتے ہیں ۔

     

    اس کی جلد چھلکے دار ہوتی ہے جس کے متعلق یہ افواہ ہے کہ یہ انسانو ں کے لئے فائدہ مند ہے اور اس کو زیورات ، میک اپ اور تعویزوں کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ مردوں میں جنسی طاقت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ اس جلد کو کسی بھی طرح استعمال کرنے سے انسان کو خارش کر مرض لاحق ہو سکتا ہے ۔ اس کی جلد کے چھلکے کراٹین کے بنے ہوتے ہیں ۔ انسانوں کے بال اور ناخن بھی اس میٹریل کے بنے ہوتے ہیں اس لئے اس چھلکے کھانے سے خطرناک بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں ۔

     

    سَلاّکے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ گوشت خؤر جانور ہے انسانوں پر حملہ کرتا ہے جبکہ یہ بھی غلط ہے اس کے منہ میں دانت ہی نہیں ہوتے یہ کیڑے مکوڑے کھاتا ہے ان کو بھی اپنی زبان کی مدد سے کھاتا ہے ۔ اس کے علاوہ دیمک وغیرہ بھی یہ کھاتا ہے جنگلات میں درختوں کی لکڑی کو محفوظ رکھنے میں ان کا اہم کردار ہے ۔

     

    انسانوں کو نقصان پہچانا دور کی بات یہ انسانوں سے خطرہ محسوس کر کے خود کو گیند کی طرح گول کر لیتا ہے ۔ ماحول کے نظام کو متوازن رکھنے میں اس جانور کا اہم کردار ہے ۔ اس ختم ہوتی نسل کو بچانے کے لئے انسانوں کو اہم کردار ادا کرنا ہو گا ۔ ورنہ یہ بھی نایاب جانوروں کی طرح ناپید ہو جائے گا ۔

     

    اس لئے افواہوں کی بنیاد پر اس جانور کا نقصان نا پہنچائے بلکہ اس کی بقا کے لئے اپنا کرداد ادا کریں۔

    شکریہ