فلسطین کی ایک بیٹی اپنے گھر کو ٹوٹتا دیکھ چیخ و پکار کرتی رہی اور عرب کے حاکم اسرائیل سے معاہدہ کرتے رہے

    فلسطینی لڑکی کی پھوٹ پھوٹ اور چیخ چیخ کر دوہائی نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا لیکن عرب شیخ ٹس سے مس نہ ہوئے اپنے فیصلے سے۔ تفصیلات کے مطابق فلسطینی لڑکی کی دل دہلانے والی ویڈیو منظر عام پر اس وقت سامنے آئی جب اسرائیل اور یو اے ای کے درمیان معاہدوں پر دستخط کیے جارہے تھے ۔ ویڈیو میں دیکھا گیا کہ لڑکی کے گھر کو بلڈوزر سے مسمار کیا جارہا ہے اور وہ یہ منظر دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو رہی ہے اور ساتھ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ ہم کہاں رہیں گے ، ہمارا گھر تو چھوڑ دو۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ے کہ ایسے بے شمار گھر ہیں جنہیں اسرائیلی حکومت نے اپنے طاقت کے بل پر بلڈوز کر دیا ۔ اسرائیلی حکومت ایسے سینکڑوں گھر ہیں جنہیں مسمار کرنے کا منصوبہ تیار کر رہی ہے ۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یکم جولائی سے 8جولائی تک 58سے زائد مکانات اور عمارتیں مسمار کیں جس کی وجہ سے سینکڑوں افراد بے گھر ہوئے جن میں 84نابالغ بھی شامل ہیں ۔ 8جولائی کے بعد گھروں کو مسمار کرنے میں تیز ی آئی ہے ، مشرقی یروشلم میں اس ہفتے 7سے زائدگھر تباہ مسمار کیے گئے ہیں ۔ بے گھر ہونے والے رہائشیوں کی دل دہلا دینے والے داستانیں بھر ی پڑی ہیں جن میں ایک نوجوان لڑکی کی آہ و پکار نے پوری دنیا کے توجہ سمیٹ لی ہے لوگوں کے دل ویڈیو دیکھ کر غمگین ہو گئے ہیں ۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی کیساتھ وائرل ہو رہی ہے ۔

    مزید پڑھیں: پانی میں موجود قبر جسے آج تک کچھ نہیں ہوا

    Advertisement

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتاہے کہ لڑکی اور اس کا بھائی پھوٹ پھوٹ کر رو رہے اور ساتھ بھیک مانگ رہے ہیں خدا کیلئے ہمارا گھر مت گرائو ، ہم کہاں رہیں گے ۔ ابراہیم نے بتایا کہ اس نے اپنے گھر کو قانونی تسلیم کرانے کیلئے اسرائیلی فیصلے پر اپیل کرنے کے لئے ایک وکیل سمیع الشیخ کو 50،000 سے 60،000 ڈالر کے درمیان ادائیگی کی۔ انہوں نے بتایا کہ وکیل نے فیصلے کی اپیل کے لئے چار بار کوشش کی ، ان سبھی کو فوری طور پر مسترد کردیا گیا۔تب ابراہیم نے کہا ، “مجھے حیرت ہوئی جب انہوں نے کل مجھے اطلاع دی کہ میرا گھر ایک ہی دن میں منہدم کرنا پڑا ،ہم نے ان سے چند ہفتوں تک التجا کرنے کی کوشش کی ، لیکن انہوں نے میری کوششوں کو مسترد کردیا۔”اب ان کا گھر بلڈوز ہو چکا ہے جبکہ بچے گھر مسمار ہوتا دیکھ کر روتے رہے لیکن ان کی کسی نے نہ سنی ۔